خلیج کا بحران — Page 205
۲۰۵ یکم فروری ۱۹۹۱ء کہ تم فلاں علاقہ خالی کر دو اور عراق فلاں علاقہ خالی کر دے گا۔بات وہیں ختم ہو جائے گی۔اس لئے ہمیں ان باتوں کا مزید تفصیل سے جائزہ لینا ہوگا کہ اس موجودہ لڑائی کے پس منظر میں کیا عوامل کام کر رہے ہیں۔یہ جو الزام لگایا جاتا ہے کہ یہ ان کے مشترکہ مفادات ہیں جن کی خاطر یہ اس وقت عراق کومٹانے پر تلے ہوئے ہیں اور کویت کی بحالی محض ایک بہانہ ہے۔اس کی بھی چھان بین کرنی ہوگی کہ کیا پہلے مشترکہ یا غیر مشتر کہ علاقائی مفادات کی خاطر ان قوموں نے اسی قسم کا رد عمل دکھایا کہ نہیں۔دوسرا جو الزام ہے کہ یہود کی خاطر ایسا کیا جا رہا ہے اس کی چھان بین کرنی ہوگی کہ جب بھی یہود اس علاقے میں مسلمان ریاستوں سے متصادم ہوئے ہیں یا اسرائیل کہنا چاہئے۔یہود میں تو بعض ایسے فرقے بھی ہیں جو اسرائیل کے خلاف ہیں بعض بڑے بڑے شریف النفس ایسے لوگ بھی ہیں جو اسرائیلی جارحیت کی کھل کر تنقید کرتے ہیں اور ان کی کاروائیوں کی کسی رنگ میں بھی تائید نہیں کرتے تو یہود نہیں کہنا چاہئے ، اسرائیل کہنا چاہئے کہ اسرائیل کا جب بھی تصادم ہوا ہے ان قوموں نے اس میں کیا کردار ادا کیا ہے اور کیوں اسرائیل کی ہر موقعہ پر تائید کی ہے اگر تائید کی ہے تو مذہبی تعصب اس میں کارفرما ہے یا محض مفادات ہیں۔اسرائیل کے قیام کی غرض وغایت کیا ہے کیوں اس کو ہر بڑی سے بڑی قیمت پر قائم رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔یہ سارے سوالات ہیں جن کا جواب انشاء اللہ آئندہ خطبے میں پیش کروں گا اور جہاں سے اس تاریخ کی بحث کو چھوڑ رہا ہوں ، وہیں سے اٹھا کر آج تک کے حالات رونما ہونے والے بڑے بڑے واقعات آپ کے سامنے پیش کروں گا تا کہ آپ کی یاد داشت تازہ ہو جائے۔اسلامی حل پیش کرنے کی نوید اس تجزیے کے بعد پھر اگلے خطبے میں اگر وقت ملایا اس کے بعد کے خطبے میں میں اسلامی نقطہ نگاہ سے ان مسائل کا حل پیش کرنے کی کوشش کروں گا۔کیونکہ آج وقت زیادہ ہو چکا ہے۔اس لئے اس بحث کو ، اس خطاب کو سر دست یہاں ختم کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے کہ ہم بحیثیت