خلیج کا بحران — Page 198
۱۹۸ یکم فروری ۱۹۹۱ء گے۔بہت سی تباہیاں آئیں گی۔بہت سی مصیبتوں میں تو میں مبتلا ہوں گی۔بہت بڑے خطر ناک دن ہیں جن سے ہمیں گزرنا ہوگا کیونکہ اتنا بڑا منصوبہ اچانک خود بخو دنا کام نہیں ہوا کرتا۔پوری کوشش کے بعد یہ منصوبہ اپنے سارے پر پرزے نکالے گا اور اس کی ناکامی کے لئے خدا کی تقدیر جو مدافعانہ کوشش کرے گی وہ بہر حال غالب آئے گی لیکن اس دوران ہمیں ذہنی طور پر اس بات کے لئے تیار ہونا چاہیے کہ بنی نوع انسان بہت بڑے بڑے ابتلاؤں میں سے گزریں گے اور انسان کو بڑی بڑی مشکلات کا سامنا ہوگا اور اس میں سے کچھ حصہ لازماً احمدیوں کو بھی ملے گا کیونکہ یہ نہیں ہوسکتا کہ قومی عذابوں اور ابتلاؤں کے وقت بچوں کی جماعت کلیہ بچ جائے۔تکلیف میں کچھ نہ کچھ ضرور حصے دار ہوتی ہے لیکن یہ سب کچھ ہو جانے کے بعد بالآخر اسلام کی ترقی اور فتح اور احمدیت کے غلبے کے دن آئیں گے یہ وہ آخری تقدیر ہے جو لازماً ظاہر ہوگی اور وہی دراصل دنیا کا ” نظام نو“ ہے وہ نظام نو نہیں ہے جو صدر بش کے دماغ میں ہے جسے وہ New World Order کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں مگر اس مضمون کو سر دست چھوڑتے ہوئے میں وا پس وہاں آتا ہوں کہ سب سے پہلے موجودہ حالات کی بنیاد 1897ء کے لگ بھگ رکھی گئی۔ظاہری طور پر تو بہر حال 1897ء میں رکھی گئی جب اسرائیل کی حکومت کے قیام کی کوششوں کا اعلان ہوا۔اس کے بعد دوسرا بڑا قدم 1917 ء میں ہمیں نظر آتا ہے جبکہ Balfour نے ، (بالفور یا بیلفور جو بھی Pronunciation صحیح ہے ، جو انگلستان کے Foreign Secretory تھے، انہوں نے ایک بہت امیر یہودی انسان کو جو یہودی کمیونٹی کا نمائندہ تھا ، Rothschild جو بعد میں لارڈ (Lord ) بھی بن گیا یا اس وقت بھی شاید Lord ہی ہو ، Lord Rothschild کو ایک خط لکھا جس میں کیبنٹ کے ایک فیصلے سے اس کو مطلع کیا اور یہ Document کے طور پر چھپا ہوا موجود ہے کہ برطانوی حکومت نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ ہم آپ کے ساتھ فلسطین میں اسرائیلیوں کو گھر دینے کے مسئلے پر ہر طرح تعاون کریں گے اور ہر طرح آپ کا ساتھ دیں گے اور ہاتھ بٹائیں گے۔یہ جو 16 17 18 19 تک کے عرصے میں پھیلا ہوا ہے۔یہ دور اسلام