خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 199 of 376

خلیج کا بحران — Page 199

۱۹۹ یکم فروری ۱۹۹۱ء کے خلاف سازشوں کا ایک نہایت ہی خوفناک اور سنگین دور ہے اور ان سازشوں میں سب سے زیادہ نمایاں حصہ اس وقت کی برطانوی حکومت نے لیا۔میں اس کی چند مثالیں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔اسلام کے خلاف سازشوں کا خوفناک دور 1897ء میں First World Zionist Congress نے جو ڈیکلریشن دیا اس کا میں ذکر کر چکا ہوں جس کے اس وقت پریذیڈنٹ DR۔Theodor Herzl تھے اور اگست 1897ء میں یہ منصوبہ دنیا میں باقاعدہ شائع ہوا۔1917ء کو بالفور Balfour برٹش فارن سیکرٹری نے راتھشیلڈ کو جو خط لکھا ہے اس کا میں ذکر کر چکا ہوں۔اس سے ایک سال پہلے 1916ء میں MR۔Mc Mahon جو انگلستان کی حکومت کے نمائندہ تھے انہوں نے مکہ اور مدینہ اور ارض حجاز کے گورنر شریف حسین صاحب کو ایک خط لکھا۔یہ شرق اردن کا خاندان تھا جو ترکی کی طرف سے ارض حجاز پر ترکی کی نمائندگی کرتا تھا اور اس خاندان کے افراد کو شریف مکہ کے طور پر یعنی مکہ کے گورنر کے لقب کے ساتھ وہاں گورنر بنایا جاتا تھا تو شریف مکہ کو Mc Mahon نے ایک خط لکھا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر تم اس بات پر ہم سے اتفاق کرلو کہ ہم تمہیں ترکی کی ظالمانہ حکومت سے آزادی دلائیں اور آزاد عرب ریاست کے قیام میں تمہاری مدد کریں تو اس کے بدلے تم ہمیں یہ یہ مراعات دو۔کچھ علاقے A کے نام سے Mark کر کے نقشے میں ظاہر کئے گئے کچھ B کے نام سے اور کچھ فرانسیسی تسلط کے علاقے بتائے گئے، کچھ انگریزی تسلط کے۔ان ساری شرائط کا خلاصہ یہ تھا کہ اس کے بعد ہمیشہ کے لئے فارن پالیسی بنانے کا پورا اختیار انگلستان کو ہوگا یا فرانس کو ہوگا اور تمہیں اپنے بیرونی معاملات طے کرنے میں ان ان دائروں میں جن جن حکومتوں کا تسلط ہے ان کے مشورے اور اجازت کے بغیر کوئی کام کرنے کی اجازت نہیں ہوگی یہاں تک کہ کوئی یورپین مبصر اور کوئی یورپین مشیر تم وہاں سے نہیں بلا سکتے جب تک انگریزی تسلط کے علاقے میں انگریز سے اجازت نہ ملے یا فرانسیسی تسلط کے علاقے