خلیج کا بحران — Page 193
۱۹۳ یکم فروری ۱۹۹۱ء انگلستان کے پرائم منسٹر رہ چکے ہیں اور اپنی بصیرت کے لحاظ سے اور بصارت کے لحاظ سے اور سیاسی سوجھ بوجھ کے لحاظ سے اور سیاست کے وسیع تجربے کے لحاظ سے انگلستان کی عظیم ترین زندہ شخصیتوں میں شامل ہوتے ہیں اور مسلسل ان کا یہی موقف رہا ہے کہ ہماری موجودہ سیاسی لیڈرشپ ہمیں سخت دھوکا دے رہی ہے اور یہ جو نیک مقاصد کا اعلان کیا جا رہا ہے ہرگز یہ بات نہیں۔یہ جنگ انتہائی خودغرضانہ اور ظالمانہ جنگ ہے اور احمقانہ جنگ ہے کیونکہ ان کے نزدیک بھی اس کے نہایت ہی خوفناک بداثرات پیدا ہوں گے اور جنگ کے بعد کے حالات بہت زیادہ خطرناک ثابت ہوں گے۔بہر حال اس وقت میں اس تفصیل میں نہیں جانا چاہتا کہ مغربی مفکرین کیا کیا کہہ رہے ہیں۔خلاصہ دوسری آواز یہ ہے کہ یہ تیل کی جنگ ہے یہ مفادات کی جنگ ہے یہ اسرائیل کے دفاع کی جنگ ہے اسرائیلی مقاصد کو پورا کرنے کی جنگ ہے اور بعض یہ کہتے ہیں کہ یہ جنگ صدر بش کی اور صدر صدام کی جنگ ہے اور ان کے نزدیک صدر بش نے اس مسئلے کو اپنی ذاتی انا کا مسئلہ بنالیا ہے اور اب ان کی عقل اور ان کے جذبات ان کے قابو میں نہیں رہے۔جب وہ بات کرتے ہیں تو ایسے بے قابو ہو جاتے ہیں اور اس طرح بچوں کی طرح ایسے غلط محاورے استعمال کرتے ہیں کہ یہ لگتا ہی نہیں کہ کوئی عظیم قومی راہنما بات کر رہا ہے اس لئے وہ بڑے زور کے ساتھ اس مسلک کو پیش کرتے ہیں کہ یہ جنگ در اصل صدر بش کی جنگ ہے جو صدر صدام سے شدید نفرت کرتے ہیں اور انہوں نے امریکن تسلط کو قبول کرنے سے جو انکار کیا اور اس کے رعب میں آنے سے انکار کیا اس کے نتیجے میں غضب بھڑ کا ہوا ہے جو قابو میں نہیں آرہا۔یہودی غلبہ کا قدیمی منصوبہ اب ہم دیکھتے ہیں کہ اصل حقیقت کیا ہے کیونکہ جماعت احمدیہ کو تو جذباتی فیصلے نہیں کرنے چاہئیں اور چونکہ ہم نے صرف اپنی ہی فکر نہیں کرنی بلکہ سب دنیا کی فکر کرنی ہے۔کمزور اور چھوٹے اور بے طاقت ہونے کے باوجود کیونکہ ہم میں سے ہر ایک یہ یقین رکھتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس دنیا کی