خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 194 of 376

خلیج کا بحران — Page 194

۱۹۴ یکم فروری ۱۹۹۱ء سرداری یعنی خدمت کے رنگ میں ہمارے سپرد فرمائی ہے۔ہمیں اس دنیا کا قائد بنایا گیا ہے اور قائد کا معنی وہی ہے جو آنحضرت صلی علی نے بیان فرمایا کہ سید الـقـوم خـادمـهـم ( الجهاد لا بن المبارک کتاب الجہاد حدیث نمبر : ۲۰۷) کہ قوم کا سردار اس کا خادم ہوا کرتا ہے۔یعنی سردار اور خادم دراصل ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔اگر کوئی خدمت کرنا نہیں جانتا تو وہ سیادت کا حق نہیں رکھتا اور اگر وہ کوئی سیادت پا جاتا ہے تو اس کا فرض ہے کہ خدمت کرے۔پس ان معنوں میں میں قائد ہونے کی بات کرتا ہوں اور کسی معنی میں نہیں۔پس ہم نے بنی نوع انسان کی خدمت کرنی ہے۔ان کو ان کے صحیح اور غلط کی تمیز سکھانی ہے اور ان کو سمجھانے کی کوشش کرنی ہے کہ تمام بنی نوع انسان کا مفادکس بات میں ہے۔کس چیز میں ان کی بھلائی ہے کس چیز میں ان کی برائی ہے۔اس نقطہ نگاہ سے میں چاہتا ہوں کہ اس مسئلے کو خوب کھولوں اور پھر جہاں جہاں احمدی اس مسئلے کو سمجھ لیں وہاں پھر وہ اپنی طاقت کے مطابق آواز اٹھائیں اور ماحول کی سوچ اور آراء کو تبدیل کرنے کی کوشش کریں۔اس مسئلے کا آغاز دراصل پچھلی صدی کے آخر پر ہو چکا تھا۔جو جنگ آج نظر آ رہی ہے اس کی جڑیں بہت گہری ہیں۔1897ء میں ایک صیہونی مقاصد کی کونسل قائم ہوئی جو یہود کے اس طبقے سے تعلق رکھتی تھی جو حضرت داؤد کی بادشاہت کے قائل ہیں اور یہ ایمان رکھتے ہیں کہ تمام دنیا پر ایک دن داؤدی حکومت ضرور قائم ہو کر رہے گی۔ان کو صیہونی یا اسرائیلی کہا جاتا ہے۔صیہونیوں کی ایک ورلڈ کونسل قائم ہوئی اور اس نے اپنا ایک ڈیکلریشن ظاہر کیا۔اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔اسی سال یا اس سے کم و بیش کچھ آگے پیچھے کے عرصہ میں ایک یہودی Document یعنی مسودہ پہلی مرتبہ دنیا کے سامنے ظاہر ہوا جس کا نام تھا پروٹو کالز آف ایلڈرز آف زائن Protocolsof) (Elders of Zion یعنی زائن ، وہی زائن (Zion) جس کا میں ذکر کر رہا ہوں یعنی اسرائیلی حکومت ، زائن ازم کے قیام کا مظہر یہ لفظ زائن ہے۔زائن وہ پہاڑ ہے جس کے اوپر کہتے ہیں حضرت داؤد سے وعدہ کیا گیا تھا۔بہر حال جب زائن کہتے ہیں تو مراد اسرائیل ہے تو اسرائیل کے بڑے لوگ جو Zionism کے قائل ہیں ان کے چوٹی کے راہنماؤں کی سکیم کہ ہم کس طرح دنیا پر اپنے تسلط کو قائم