خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 17 of 376

خلیج کا بحران — Page 17

۱۷ ۱۷ اگست ۱۹۹۰ء ہو، وہ کلیۂ آزاد تھے۔جس طرح چاہتے زندگی بسر کرتے اور کسی ایک شخص نے ، کسی فرد واحد نے بھی اُن پر کبھی کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ اسلام تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ اگر کوئی پناہ مانگتا ہے تو خواہ وہ دشمن قوم سے تعلق رکھنے والا ہو اُس کو پناہ دو لیکن عراق نے اسلام کے اس اعلیٰ اخلاق کے پیمانے کو کلیپ نظر انداز کرتے ہوئے اعلان کیا کہ تمام برٹش قوم سے تعلق رکھنے والے جو کسی حیثیت سے کویت میں یا عراق میں زندگی بسر کر رہے تھے اور تمام امریکن جوان علاقوں میں موجود تھے اُن کو نہ ملک چھوڑنے کی اجازت ہے، نہ اپنے گھروں میں رہنے کی اجازت ہے، وہ فلاں فلاں ہوٹل میں اکٹھے ہو جائیں۔اسی طرح دیگر غیر ملکیوں کو بھی جو اسلامی ممالک سے تعلق رکھنے والے ہیں اُن کو بھی باہر نکلنے کی اجازت نہیں۔اب ظاہر بات ہے کہ جس طرح یہ معاملہ آگے بڑھ رہا ہے، ان کو Hostages کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔اب یہ بات اپنی ذات میں کلیہ اسلامی اخلاق تو درکنار، دُنیا کے عام مروجہ اخلاق کے بھی خلاف ہے اس لئے اخلاق ہیں کہاں؟ آج کی سیاست میں کونسا ایک ملک ہے خواہ وہ اسلامی ہو یا غیر اسلامی ہو جس کے متعلق ہم یہ کہہ سکتے ہوں کہ یہ تقویٰ کے اعلیٰ معیار پر پورا اترتا ہویا اسلامی اخلاق کے ادنی معیار پر بھی پورا اترتا ہو۔ہر طرف رخنے ہیں۔اب حال ہی میں یہ جو Unitednation کے ریزولیوشنز کو بہانہ بنا کر تمام طرف سے عراق کا Blockage کیا گیا یعنی فوجی اقدام کے ذریعے عراق میں چیزوں کا داخلہ بھی بند کیا گیا اور وہاں سے چیزوں کا نکلنا بھی بند کیا گیا۔اس میں دو قسم کی اخلاقی زیادتیاں ہوئی ہیں جو بہت ہی خطرناک ہیں۔ایک یہ کہ یونائیٹڈ نیشنز نے ہر گز کھانے پینے کی اور ضروریات زندگی کی اشیاء کو بائیکاٹ میں شامل نہیں کیا تھا۔دوسرے یونائیٹڈ نیشنز نے ہرگز یہ فیصلہ نہیں کیا تھا کہ اگر کوئی ملک بائیکاٹ نہ کرنا چاہے تو اُسے زبر دستی بائیکاٹ کرنے پر مجبور کیا جائے۔اب ان دونوں باتوں میں امریکہ بھی اور انگلستان بھی یہ کھلی کھلی دھاندلی کر رہے ہیں۔ایک طرف عراق پر بداخلاقی کا الزام ہے جو ہم مانتے ہیں کہ اسلامی نقطہ نظر سے بداخلاقی ہے، لیکن دوسری طرف اس دوسرے سانس میں خود ایک ایسی خوفناک بد اخلاقی کے مرتکب ہوتے ہیں