خلیج کا بحران — Page 18
کا بحران ۱۸ ۱۷ اگست ۱۹۹۰ء جو بظاہر ڈپلومیسی کی زبان میں لپٹی ہوئی اور اتنی نمایاں طور پر خوفناک دکھائی نہیں دیتی مگر امر واقعہ یہ ہے کہ بغداد کی حکومت نے جو چار ہزار انگریز اور دو ہزار امریکن یا اس کے لگ بھگ جتنے بھی ہیں اُن لوگوں کو پکڑ کر اپنے پاس Hostage کے طور پر رکھا ہوا ہے۔اگر ان کو بالآ خر خدانخواستہ ظالمانہ طور پر وہ ہلاک بھی کر دیں تو بھی یہ ظلم جو انگریز اور امریکہ مل کر عراق پر کر رہے ہیں یہ اُس سے بہت زیادہ بھیا نک مُجرم ہے۔وجہ یہ ہے کہ اب اس جرم کے دائرے میں یعنی اس جرم کے نشانے کے طور پر Jorden کو بھی شامل کیا جا رہا ہے۔شرق اُردن ایک ایسا ملک ہے جو ہمیشہ مغرب کا وفادار رہا ہے بلکہ قابلِ شرم حد تک وفادار رہا ہے اور سب سے زیادہ وفادار اس علاقے میں جو اسلامی ریاست تھی وہ یہی ریاست تھی۔ویسے تو وفا میں سعودی عرب ان سے بڑھ کر ہے لیکن اس کا معاملہ صرف وفا کا نہیں۔سعودی عرب کے تمام مفادات امریکن مفادات کے ساتھ ہم آہنگ ہو چکے ہیں اور ایک ہی چیز کے دو نام بنے ہوئے ہیں اس لئے وہاں وفا کا سوال نہیں مگر شرق اردن جو ایک چھوٹا ملک ہے، یہ واقعہ ایک لمبے عرصے سے مغربی دنیا کا مشہور وفا دار ملک چلا آ رہا ہے۔انگریزوں کے ساتھ بھی گہرے دوستانہ بلکہ برادرانہ مراسم، امریکنوں کے ساتھ بھی اور اب تک ان کی اپنی فہرستوں میں اس ملک کا نام ہمیشہ وفاداروں میں سرِ فہرست رکھا جاتا رہا۔شرق اُردن کی مشکل یہ ہے کہ اگر وہ عراق کے ساتھ اقتصادی بائیکاٹ کرے تو خود مرتا ہے اور اس کے لئے زندگی کا کوئی اور چارہ نہیں رہتا اور پھر اگر اس کے نتیجے میں عراق اسے بہانہ بنا کر اس پر قبضہ کرنا چاہے تو شرق اردن میں اتنی طاقت بھی نہیں کہ چند گھنٹے اُس کا مقابلہ کر سکے اس لئے اُن کی یہ مجبوری ہے مگر اس مجبوری کو کلیۂ نظر انداز کرتے ہوئے مغرب نے شرق اردن کو بھی اپنے جرم کا نشانہ بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے اور یہ دھمکیاں دی جارہی ہیں کہ اگر تم نے عراق کا Blockage کرنے میں ہماری مدد نہ کی تو ہم تمہارا Blockage کریں گے اور اس Blockage میں چونکہ خوراک شامل ہے اس لئے بے شمار انسانوں کو ایڑیاں رگڑا رگڑا کر بھوکوں مارنے کا منصوبہ ہے یہاں تک کہ وہ کلیہ ذلیل اور رسوا ہو کر اپنے ہر مؤقف سے پیچھے ہٹ جائے۔خواہ