خلیج کا بحران — Page 183
۱۸۳ ۲۵ جنوری ۱۹۹۱ء ہیں جنہیں دنیا میں کوئی مٹا نہیں سکتا۔آپ وہ مزدور ہیں جنہوں نے وہ نئی عمارتیں تعمیر کرنی ہیں۔نئی اقوام متحدہ کی بنیادیں تو ڈالی جا چکی ہیں ، آسمان پر پڑ چکی ہیں ان کی عمارتوں کو آپ نے بلند کرنا ہے۔پس ان دو مقدس مزدوروں کو کبھی دل سے محو نہ کرنا جن کا نام ابراہیم اور اسماعیل تھا اور ہمیشہ یادرکھنا اور اپنی نسلوں کو نصیحتیں کرتے چلے جانا کہ اے خدا کی راہ کے مزدورو! اسی تقویٰ اور سچائی اور خلوص کے ساتھ ، اسی تو حید کے ساتھ وابستہ ہو کر اسے اپنے رگ و پے میں سرایت کرتے ہوئے تم اس عظیم الشان تعمیر کے کام کو جاری رکھو گے ایک صدی بھی جاری رکھو گے، اگلی صدی بھی جاری رکھو گے یہانتک کہ یہ عمارت پائیہ تکمیل کو پہنچے گی۔اس عمارت کی تکمیل کا سہرا جس کی بنیاد حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے ڈالی تھی۔جن کے ساتھ ان کے بیٹے اسماعیل نے مزدوری کی تھی خدا کی تقدیر میں ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی ﷺ کے سر پر باندھا جا چکا ہے۔کوئی نہیں ہے جو اس تقدیر کو بدل سکے۔ہم تو مزدور ہیں محمد مصطفیٰ " کے قدموں کے غلام، آپ کے خاک پا کے غلام ہیں۔پس آپ وفا کے ساتھ کام لیں اور نسلاً بعد نسل اپنی اولا د کو یہ نصیحت کرتے چلے جائیں کہ تم خدا اور رسول کے مزدوروں کی طرح کام کرتے رہو گے ، کرتے رہو گے ، اپنے خون بھی بہاؤ گے اور پسینے بھی بہاؤ گے اور کبھی بھی پیچھکو گے نہ ماندہ ہو گے یہاں تک کہ خدا کی تقدیر اپنے اس وعدے کو پورا کر دے کہ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ (القف:۱۰) کہ محمد مصطفی ﷺ کا دین اس لئے دنیا میں بھیجا گیا تھا کہ تمام ادیان پر غالب آجائے اور ایک ہی جھنڈا ہو جومحمد رسول اللہ ﷺ کا جھنڈا ہو اور ایک ہی دین ہو جو خدا اور محمد کا دین ہو اور ایک ہی خدا کی بادشاہت دنیا میں قائم ہو خدا کرے کہ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھیں اگر نہ دیکھ سکیں تو ہماری اولا دیں اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور ہمیں یا درکھیں اور اگر وہ بھی نہ دیکھ سکیں تو ان کی اولادیں اپنی آنکھوں سے دیکھیں لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ان دنیا کی آنکھوں سے آپ دیکھ سکیں یا نہ دیکھ سکیں۔میری روح کی آنکھیں آج ان واقعات کو دیکھ رہی ہیں۔ان عظیم الشان تغیرات کو اس طرح دیکھ رہی ہیں جیسے میرے سامنے واقعہ ہورہے ہیں اور ہمارے مرنے کے بعد ہماری روحوں کو آشنا کیا جائے گا اور خبریں دی جائیں گی کہ اے خدا کے غلام