خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 16 of 376

خلیج کا بحران — Page 16

۱۶ ۱۷ اگست ۱۹۹۰ء پیمانے بدلا نہیں کرتے۔اسی طرح عراق میں یہ مشہور کیا گیا کہ بعض انگریز ایئر ہوسٹسز (Air Hostesses) کے ساتھ وہاں کے فوجیوں نے انتہائی بہیمانہ سلوک کیا اور اُن کی آبروریزی کی اور اس پر بہت شور پڑا ہے۔کشمیر میں گزشتہ کئی مہینوں سے مسلسل مسلمان عوام اور غریب عورتوں اور بچوں پر شدید مظالم توڑے جا رہے ہیں اور آبرو ریزی کے واقعات اس کثرت سے ہو رہے ہیں اور ایسے دردناک واقعات ہیں کہ وہ جو مجھے اطلاعیں ملتی ہیں ان کو پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور دل لرز اٹھتا ہے کہ ایسے بہیمانہ اور سفا کا نہ سلوک بھی دنیا میں کئے جاسکتے ہیں۔کون سے مغربی ممالک ہیں جنہوں نے اس معاملے پر ہندوستان کو ملامت کا نشانہ بنایا ہو اور کون سا مغربی میڈیا ہے جس نے ان باتوں کو نمایاں کر کے دنیا کے سامنے پیش کیا ہو؟ جہاں روزانہ بیسیوں ایسے ظالمانہ واقعات ہوتے ہیں اور ہوتے چلے جارہے ہیں اُن سے آنکھیں بند کی ہوئی ہیں اور یہ واقعہ جو کہا جاتا ہے کہ عراق میں ہوا ہے، اس کے اوپر اتنا شور پڑا اور اس شور کے مدھم ہونے سے پہلے ہی یہ بات بھی ظاہر ہوگئی کہ وہ سب جھوٹ تھا اور ایک فرضی بات تھی۔دوسری طرف عراق بھی جو اسلامی انصاف کے تقاضے ہیں اُن پر پورا نہیں اتر رہا۔اسلام ہرگز اجازت نہیں دیتا کہ خواہ لڑائی ہو اور خواہ جس قوم سے تمہاری لڑائی ہو رہی ہے، اُس قوم سے تعلق رکھنے والے لڑائی کے دوران تمہارے مُلک میں آباد ہوں تم ان کو کسی قسم کا Hostage بناؤ، کسی قسم کی سودا بازی کے لئے ان کو استعمال کر دیا اُن پر کوئی ایسا ظلم کرو جو تقویٰ کے خلاف ہے یعنی ظلم فی ذاتہ تقویٰ کے خلاف ہے۔مراد یہ ہے کہ اُن کے ساتھ ہر قسم کی زیادتی سے اسلام منع کرتا ہے۔اخلاق سے عاری سیاست کے شاخسانے حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ساری زندگی اور اس زندگی میں ہونے والے تمام غزوے گواہ ہیں کہ ایک بھی ایسا واقعہ نہیں ہوا کہ جس قوم کے ساتھ اسلام کی فوجیں برسر پیکار تھیں اُن کے آدمی جو مسلمانوں کے قبضہ قدرت میں تھے اُن سے ایک ادنی بھی زیادتی ہوئی