خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 169 of 376

خلیج کا بحران — Page 169

۱۶۹ ۲۵ جنوری ۱۹۹۱ء ہے۔اگر یہ وطنیت کی تعریف ہے تو پھر اسلام ضرور اس سے متصادم ہے لیکن ان معنوں میں متصادم ہے کہ اس تعلیم کو درست کرے اور خواہ اس درستی کی راہ میں کتنی ہی قربانیاں پیش کرنی پڑیں جب تک بنی نوع انسان فطرت کے مطابق سید ھے اور صاف نہیں ہو جاتے اور ان کی فطرت خدا کے حضور لبیک نہیں کہتی اس وقت تک اس دائرے میں اسلام کا ان غلط تعریفوں سے تصادم رہے گا اور یہ ایک ایسا تصادم ہے جس میں اسلام کو اپنی تائید میں ہر وطن سے اٹھتی ہوئی آواز سنائی دے گی۔آج بھی دنیا میں جو حالات گزر رہے ہیں ان میں جماعت احمد یہ جو مؤقف اختیار کر رہی ہے اس مؤقف کی تائید میں بعینہ ہر ملک سے تائید کی آواز میں اٹھ رہی ہیں مجھے ابھی دو دن پہلے ایک بڑے مغربی ملک کے ہمارے ایک احمدی نے یہ مطلع کیا بلکہ استفسار کیا ، مجھ سے پوچھا کہ یہاں ایک بہت ہی مشہور مبصر اور بڑا ہی با اثر مبصر ہے اس نے موجودہ حالات پر جو تبصرہ کیا ہے یوں لگتا ہے کہ اس نے آپ کا خطبہ پڑھ کر یا خطبات پڑھ کر تمام وہ نکات قبول کر لئے ہیں جو آپ نے پیش کئے تو بتا ئیں آپ نے ان کے ساتھ کوئی رابطہ کیا تھا یا کسی احمدی نے اس کے ساتھ رابطہ کیا ہے اور ایک جگہ سے نہیں اور بھی کئی جگہوں سے اس قسم کے خطوط ملے۔بظاہر یہ میرے خطبات کو ایک خراج تحسین ہے مگر میں جاہل نہیں ہوں کہ بے وجہ ایسی حد کو اپنا بیٹھوں جو میرے ساتھ تعلق نہیں رکھتی بلکہ اسلام سے تعلق رکھتی ہے۔تعریف کے لائق خدا ہے اور خدا کا بھیجا ہوا دین ہے اور بیداس تعلیم کی سچائی اور عظمت کا ثبوت ہے ہاں میرے لئے صداقت کی پہچان کی ایک کسوٹی ضرور بن گئی۔یہ بات میرے لئے ان معنوں میں اطمینان کا موجب بنی کہ مجھے مزید یقین ہو گیا کہ ان حالات پر میرے جو بھی تبصرے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی تعلیم کے مطابق ہیں ورنہ فطرت انسانی اس طرح مختلف ممالک سے بیک آواز اس کی تائید میں تبصرے نہ کرتی اور تقریر اور تحریر کے ذریعے اس تعلیم کی تائید نہ کرتی۔پس مسلمانوں کے لئے ایک بہت کڑا وقت ہے اس کڑے وقت میں اپنے جذبات اور رد عمل اور خیالات کی حفاظت کریں اور اسلام کے پر امن دائرے سے باہر نہ جانے دیں کیونکہ جہاں بھی آپ نے اسلام کے دائرے سے با ہر قدم رکھا وہیں آپ کے لئے خطرات پیش ہوں گے۔