خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 168 of 376

خلیج کا بحران — Page 168

۱۶۸ ۲۵ جنوری ۱۹۹۱ء غالب آنے والی تعلیم ہے جسے دنیا میں کوئی شکست نہیں دے سکتا اور کوئی اس پر اعتراض کرنے کی مجال نہیں رکھتا اس لئے کہ یہ سچائی پر مبنی ہے۔پس جماعت احمدیہ کو ہر ابتلاء کے وقت یا ویسے بھی اپنے طبعی رد عمل کا گہری نظر سے مطالعہ کرتے رہنا چاہئے۔جب بھی ماحول میں ہیجان ہو اس وقت انسان کا دل بھی بہیجان پذیر ہو جاتا ہے۔انسان کے دل میں بھی ارتعاش پیدا ہو جاتا ہے وہ اپنی جانچ کا اور یہ معلوم کرنے کا وقت ہوتا ہے کہ میں اسلام کے راستے پر ہوں یا کسی اور راستے پر ہوں خواہ انفرادی اختلافات کے وقت دل میں ارتعاش ہو یا کوئی اختلاف کے وقت دل میں ارتعاش پیدا ہو وہ وقت ارتعاش کا ایسا وقت ہے جبکہ مومن اپنے ایمان کی پہچان کر سکتا ہے اپنے دل کے آئینے میں خدا سے اپنے تعلق کو دیکھ سکتا ہے۔پس آج تمام دنیا میں جماعت احمدیہ کو ایسا ردعمل دکھانا چاہئے جس رد عمل میں ایک انگریز احمدی بھی بلاتر در یہ کہتے ہوئے شریک ہو سکتا ہے کہ یہ سچائی کی تعلیم ہے اور میری قومی وفاداری سے اس کے تصادم کا کوئی سوال نہیں اور افریقہ کا احمدی بھی یہ کہتے ہوئے اس رد عمل میں شریک ہوسکتا ہے کہ یہ بین الاقوامی سچائی کی تعلیم ہے اور میرے ملک سے اس کے تصادم کا کوئی تعلق نہیں۔غرضیکہ مشرق اور مغرب کے بسنے والے تمام بنی نوع انسان اگر فی الحقیقت ایک تعلیم پر اکٹھے ہو سکتے ہیں تو وہ اسلام ہی کی تعلیم ہے کیونکہ یہ وطنیت سے بالا ہے اور وطنیت سے متصادم نہیں ہے کیونکہ سچائی وطنیت سے متصادم نہیں ہو سکتی اگر وطنیت کا غلط تصور ہے تو سچائی کے آئینہ میں وہ تصور غلط ثابت کیا جا سکتا ہے اس لئے جب میں کہتا ہوں اسلام کی تعریف وطنیت سے متصادم نہیں ہے اس سے ٹکراتی نہیں ہے تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ دنیا کے ہر ملک میں ان کی وطنیت کا تصور اسلام سے متصادم نہیں ہوسکتا۔بعض ملکوں کے وطنیت کے تصور ہی ٹیڑھے ہوتے ہیں۔ان کی تعریف ہی مختلف ہوتی ہے جیسا کہ آج دنیا کے اکثر ممالک میں انصاف کی تعریف بدل گئی ہے۔وفا کی تعریف بدل گئی ہے۔وطنیت کے معنی ہیں سچ ہو یا جھوٹ ہوا اپنے ملک کے ساتھ وفا کرو خواہ اس کے نتیجے میں انسان کی اعلیٰ قدروں سے بے وفائی ہو اور خدا کی اس تعلیم سے بے وفائی ہو جو ہر انسان کی فطرت میں ودیعت فرمائی گئی