خلیج کا بحران — Page 166
۱۶۶ ۲۵ جنوری ۱۹۹۱ء آغوش میں تمہارے لئے بھی امن ہے۔اس ملک کے باشندے یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہاں اہل عرب کے لئے تمہاری آغوش میں امن ہوگا یا اہل انڈونیشیا کے لئے یا اہل ملائیشیا کے لئے یا اہل پاکستان کے لئے لیکن ہمارے لئے تمہارے پاس کوئی امن نہیں کیونکہ تم ہماری وطنیت کے مخالف ہو۔پس یہ ایک بنیادی واضح حقیقت ہے جسے بدقسمتی سے بعض دفعہ مسلمان بھلا بیٹھتے ہیں اور اسلامی قومیتوں کے تصور کو ابھارتے ہیں اور اس طرح مسلمان اور غیر مسلم کو ایک دوسرے سے برسر پیکار کر دیتے ہیں۔امر واقعہ یہ ہے کہ ہم نے سب دنیا کے دل جیتے ہیں اور دل متصادم ہونے سے نہیں جیتے جاتے بلکہ پیغام کی لڑائی بالکل اور ماحول میں اور کیفیت سے لڑی جاتی ہے۔پیغام کی لڑائی میں تو ایسے اصول کارفرما ہوتے ہیں جن کا دنیا کی لڑائیوں سے کوئی دور کا بھی تعلق نہیں ہوتا اور مختلف انبیاء کواللہ تعالیٰ نے مختلف وقتوں میں مختلف اصول سکھائے جو دنیا کی جنگوں پر اطلاق پاہی نہیں سکتے مثلاً حضرت عیسی علیہ السلام نے عیسائیوں کے ہاتھ میں جو ہتھیار پکڑا یا وہ یہ تھا کہ اگر کوئی تمہارے ایک گال پر طمانچہ مارتا ہے تو دوسرا گال بھی اس کے سامنے کر دو۔وہ جنگ جس جنگ کا یہ اسلوب بیان کیا جارہا تھا۔وہ جہاد جس کے لئے یہ ہتھیا ر عیسائیوں کو عطا کیا جار ہا تھا وہ روحانی جنگ تھی اور غلطی سے بعد میں عیسائیوں نے عملاً اس تعلیم کو ایک ظاہری تعلیم کے طور پر سمجھ لیا اور چونکہ وہ ان کے کام نہیں آسکتی تھی ، دنیا کے حالات پر اطلاق نہیں پاسکتی تھی اس لئے عملاً اس کو دھتکار دیا پس آج کوئی ایک عیسائی ملک دنیا میں ایسا نہیں جو حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کی اس عظیم الشان روحانی تعلیم پر عمل پیرا ہو کیونکہ یہ ایک روحانی تعلیم ہے جسے انہوں نے دنیاوی معنوں میں قبول کیا لیکن عملاً ہر اس وقت اس کو رد کر دیا اور پس پشت پھینک دیا جب ان کے امتحان کا وقت آیا۔آج بھی یہی کیفیت ہے۔پس مذہب کا تعلق روحانی دنیا سے ہے اور اس کی تعلیمات کی جنگ روحانی اصطلاحوں میں لڑی جاتی ہے۔جب یہ کہا جاتا ہے کہ اسلام کو اس غرض سے پیدا کیا گیا تا کہ تمام دنیا کے دوسرے ادیان پر یہ غالب آجائے تو اس کا ہرگز یہ مفہوم نہیں کہ تلوار ہاتھ میں پکڑ یعنی مسلمانوں کو یہ تعلیم ہو کہ تم