خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 161 of 376

خلیج کا بحران — Page 161

۱۶۱ ۱۸؍ جنوری ۱۹۹۱ء اور دوبارہ دنیا پر غالب آئیں۔اے خدا اس وعدہ کو پورا فرما جس کا تو نے قرآن میں ذکر فرمایا ہے کہ تو نے اس لئے محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو دنیا میں مبعوث فرمایا تھا کہ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلّه (الصف:۱۰) تا کہ اس کو اور اس کے دین کو تمام دنیا کے ادیان پر غالب کرے۔پس ہم کسی قوم کی فتح کی دعا نہیں مانگتے ہم سچائی کی فتح کی دعا مانگتے ہیں۔ہم اسلام کی فتح کی دعا مانگتے ہیں ہم سچ کی فتح کی دعا مانگتے ہیں۔ہم انسانی قدروں کی فتح کی دعا مانگتے ہیں۔اے خدا آج اگر ہماری دعاؤں کو تو نے نہ سنا تو اس دنیا کی نجات کا کوئی سامان نہیں ہے۔پس ہم اپنے کامل خلوص اور کامل عجز کے ساتھ تیرے حضور سجدہ ریز ہیں اور گر یہ کناں ہیں۔ان غلاموں کی، محمد مصطفی میلے کے غلاموں کی التجاؤں کو سن اور دنیا میں وہ پاک انقلاب بر پا فرما جس کی خاطر ހނ تو نے ہمیں بھی قائم فرمایا ہے۔وہ عظیم روحانی اور عالمی انقلاب بر پا فرما اور ہمیں اپنی آنکھوں۔دکھادے کہ وہ تیرے سارے وعدے سچے نکلے جو وعدے اس انقلاب سے تعلق رکھتے ہیں کہ جو آخرین کے ذریعے دنیا میں برپا ہوگا اور وہ آخرین “ ہم ہیں اے ہمارے آقا ، تو نے ہمیں مبعوث فرمایا ہے اس لئے اپنے وعدوں کی لاج رکھ اور ہمارے ہاتھوں وہ روحانی انقلاب بر پا کر دے یعنی ہماری دعاؤں کے طفیل وہ روحانی انقلاب برپا کر دے، جس انقلاب کے بغیر دنیا بچ نہیں سکتی۔اللہ تعالیٰ ہماری ان عاجزانہ دعاؤں کو سنے اور ہمیں توفیق بخشے۔آمین۔ایک ضروری نصیحت اس سلسلے میں ایک اور ضروری نصیحت ہے کہ دعا کے ساتھ مصیبتوں میں صدقات کا بھی حکم ہے۔میں نے جب عالم اسلام کے موجودہ حالات پر غور کیا تو میری توجہ افریقہ کے ان بھوکوں کی طرف مبذول ہوئی جو کئی ملکوں کے وسیع علاقوں میں پھیلے پڑے ہیں۔ایسے سینیا میں بھی ،صومالیہ میں بھی ، سوڈان میں بھی ، چاڈ میں بھی ، بہت سے ممالک میں کثرت کے ساتھ انسانیت بھوک سے مر رہی ہے اور انسان کو بحیثیت انسان ان کی کوئی فکر نہیں۔اگر کچھ فکر کی ہے تو