خلیج کا بحران — Page 142
۱۴۲ ۱۱؍ جنوری ۱۹۹۱ء سے بچنے کے لئے اور تاریخ جوان پر تعزیر لگائے گی اس سے بچنے کی خاطر ہی سہی اگر وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں اور یہ اعلان کر دیں کہ عراق سے نپٹنا ہوگا تو ہم نیٹیں گے۔مغربی طاقتیں ہمارے ممالک کو خالی کر دیں اور اگر کوئی مدد کرنی ہے تو ہتھیاروں کے ذریعہ جس طرح پہلے بھی مدد کی جاتی ہے۔عراق کی بھی مدد کرتے رہے ہو اس طرح ہماری مدد کرو اور اس معاملے کو ہمارے حال پر چھوڑ دو ہم اس سے خود نپٹیں گے۔اگر آج یہ اعلان کر دیں تو مغربی طاقتوں کے پاس کوئی بھی عذر باقی نہیں رہتا کہ وہ زبر دستی عراق پر حملہ کریں اور اگر پھر بھی وہ کریں تو پھر یہ بات اتنی آسان نہیں رہے گی تمام عرب میں اور تمام عالم اسلام میں مغربی ممالک کے خلاف بغاوت شروع ہو جائے گی۔پس یہ اصل صورتحال ہے۔دعا یہ کریں کہ مسلمان ممالک کو اللہ تعالیٰ عقل عطا فرمائے۔صحیح سوچ اختیار کرنے کی توفیق بخشے اور جرأت مندانہ ایسا فیصلہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے جس کے نتیجے میں غیر قوموں کو عالم اسلام میں دخل اندازی کا بہانہ نہ رہے۔لیکن یہ بھی مجھے نظر نہیں آرہا اور جس حد تک یہ لوگ آگے بڑھ چکے ہیں میں سمجھتا ہوں کہ اس کی بنابڑی شدید قسم کی خود غرضی ہے جس کی وجہ سے اسلام تو محض دور کی بات ہے عرب تعلقات بھی ان کی سوچ کی راہ میں بالکل حائل نہیں ہور ہے اور اپنی ہمسائیگی کا بھی قطعا کوئی خیال نہیں اور یہ خطرہ بھی نہیں کہ عرب دنیا پر کیا گزرے گی۔یہ ساری چیزیں دور کی باتیں ہیں۔بنیادی طور پر اپنے ذاتی مفاد کا جو تقاضا ہے وہ ہر دوسری فکر پر غالب آچکا ہے۔اگر آپ نے غور کیا ہو تو آپ یہ معلوم کر کے حیران ہوں گے کہ ۱۵/جنوری کی تاریخ پر آخر اتنا زور کیوں دیا جارہا ہے۔۱۵ جنوری کوئی خدا نے تاریخ مقرر فرمائی ہے؟ یہ ہو کیا رہا ہے ؟ چند مہینے پہلے تم کہہ رہے تھے کہ Sanctions لگائی گئی ہیں ایک سال کے اندراندر Sanctions کام کریں گی اور یقین کریں گی چھ مہینے تک ہوسکتا ہے پورے نتیجے ظاہر نہ ہوں۔اس قسم کی کھلی کھلی باتیں امریکہ کیا کرتا تھا اور دوسرے مغربی مفکرین بھی ایسے ہی تخمینے پیش کرتے تھے۔اب اچانک یہ کیا ہو گیا ہے کہ اگر چہ ان Sanctions نے کام شروع کیا اور اس کی تکلیف بھی عراق کو پہنچی تو بجائے اس کے کہ انتظار کرو اور عراق کو اور کمزور ہونے دو اور اگر حملہ کرنا ہے تو اس وقت کرو۔اب اتنی جلدی کس بات کی پڑ گئی ۵ار جنوری کی تاریخ کا کیا تعلق ہے۔