خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 12 of 376

خلیج کا بحران — Page 12

۱۲ ۱۷ اگست ۱۹۹۰ء کے سامنے رکھوں گا اُس سے یہ بات کھل کر واضح ہو جائے گی کہ آج اگر حقیقت میں اسلام کا درد کسی جماعت کو دُنیا میں ہے تو وہ جماعت احمدیہ ہی ہے۔انصاف اور تقویٰ سے عاری سیاست آج کے زمانے کی سیاست گندی ہو چکی ہے۔انصاف اور تقویٰ سے عاری ہے۔وہ مسلمان ریاستیں جو اسلام کے نام پر اپنی برتری کا دعوی کرتی ہیں اُن کی وفا بھی آج اسلامی اخلاق سے نہیں اور اسلام کے بلند و بالا انصاف کے اصولوں سے نہیں بلکہ اپنی اغراض کے ساتھ ہے۔اسی وجہ سے عالم اسلام کے طرز عمل میں آپ کو تضاد دکھائی دے گا اور سوائے جماعت احمدیہ کے جتنے بھی دنیا کے فرقے ہیں آج وہ کسی نہ کسی اسلامی ریاست کے ساتھ دھڑے بناچکے ہیں اور کسی نہ کسی ایک کو اپنی تائید کے لئے اختیار کر چکے ہیں حالانکہ تقویٰ کا تقاضا یہ ہے کہ صرف اسلامی اقدار سے وفا کی جائے۔اگر اسلام سے سچی محبت ہو تو محض ان تقاضوں سے وفا کی جائے جو اسلام کے تقاضے ہیں جو قرآن کے تقاضے ہیں، جو سنت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے تقاضے ہیں اور ان تقاضوں کی روشنی میں جب ہم موجودہ سیاست پر غور کرتے ہیں تو حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق پر نہ مسلمانوں کی سیاست کی بنیاد دکھائی دیتی ہے نہ غیروں کی سیاست کی۔غیر قومیں انصاف کے نام پر بڑے بڑے دعاوی کر رہی ہیں۔گویا وہی ہیں جو دنیا میں انصاف کو قائم رکھنے پر مامور کی گئی ہیں اور اُن کے بغیر اُن کی طاقت کے بغیر انصاف دنیا سے مٹ جائے گا اور مسلمان ریاستیں اسلام کے نام پر بڑے بڑے دعاوی کر رہی ہیں مگر جب آپ تفصیل سے دیکھیں تو انصاف کا یعنی اُس انصاف کا جو قرآن کریم پیش کرتا ہے ایک طرف بھی فقدان ہے اور دوسری طرف بھی فقدان ہے۔کویت پر عراقی قبضہ۔رد عمل اور مہیب خطرات اب جو صورت حال اس وقت ظاہر ہوئی ہے، میں اب خاص طور پر اُس کے حوالے سے بات کرتا ہوں۔عراق نے کسی شکوے کے نتیجے میں ایک چھوٹی سی ملحقہ ریاست پر حملہ کر دیا اور اس حملے