خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 137 of 376

خلیج کا بحران — Page 137

۱۳۷ ۱۱ جنوری ۱۹۹۱ء نہ آسکے۔اگر عراق کے خلاف انتہائی ظالمانہ کارروائی کی جائے اور پاکستان بھی اس کارروائی میں حصہ ڈال کر شریک ہوا بیٹھا ہو اور مصر بھی شریک ہوا ہو اور ترکی بھی شریک ہو چکا ہو اور دیگر مسلمان ممالک بھی شریک ہو چکے ہوں تو وہ پلٹ کر کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ تو نے بڑا بھاری ظلم کیا ہے۔پس آئندہ ان مظالم پر نکتہ چینی کے دفاع کے طور پر کہ دنیا ان پر نکتہ چینی نہ کر سکے جن کے منصوبے یہ پہلے سے بنائے بیٹھے ہیں اتنا بڑا ہنگامہ برپا کیا گیا ہے اور اس طرح رائے عامہ کو اکٹھا کیا گیا ہے اور ملکوں کو مجبور کیا گیا ہے کہ تم بھی اس ظلم میں حصہ ڈالو خواہ تم آرام سے ایک طرف بیٹھے رہنا چنانچہ بعض مسلمان ممالک جنہوں نے فوجیں بھیجی ہیں وہ کھل کر یہ کہہ رہے ہیں کہ بھئی ہم حملے میں تو شامل نہیں ہوں گے ہم تو صرف مقامات مقدسہ کی حفاظت کی خاطر مکے اور مدینے میں جا کے بیٹھیں گے۔چنانچہ پاکستان نے بھی ایسا ہی جاہلانہ سا ایک اعلان کیا ہے یعنی مکے اور مدینے تک جو فوج پہنچ جائے گی اور تمام عالمی طاقتوں کو ملیا میٹ کرتے ہوئے پہنچے گی اس فوج سے بچانے کے لئے تم باقی رہ جاؤ گے۔کیسا بچگانہ خیال ہے۔دراصل ان کو یہ بتایا گیا ہے کہ تمہیں گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں تم آؤ امن کے ساتھ ہماری گود میں بیٹھو۔ہماری حفاظت میں رہو۔ہم صرف تمہارا نام چاہتے ہیں اور تمہاری شرکت کا نام چاہتے ہیں۔اس لئے تم شریک بن جاؤ اور یہی ہمارے لئے کافی ہے۔پس یہ ایک بہت بڑا خوفناک عالمی منصوبہ ہے اور اس منصوبے کو دنیا کے سامنے حسین طریق پر دھو کے کے ساتھ پیش کرنے کے یہ سارے ذرائع ہیں جو اختیار کئے جارہے ہیں۔صدام حسین کے لئے ایک ہی راہ کھلی ہے اب پھر سوال اٹھتا ہے کہ صدر صدام حسین کیوں اس سیدھی سادھی کھلی ہوئی حقیقت کو جان نہیں سکتے ، پہچان نہیں رہے اور کیوں مصر ہیں کہ نہیں ، ان شرائط پر میں کو بیت کو خالی کرنے کیلئے تیار نہیں۔میں اور باتوں کے علاوہ یہ سمجھتا ہوں کہ صرف کویت کو خالی کرنا مقصود نہیں ہے۔یہ فیصلہ کر چکے ہیں کہ ہر حالت میں عراق کو نہتہ کر دیا جائے گا اور بے طاقت بنادیا جائے گا اور کویت سے نکلنا پہلا قدم