خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 136 of 376

خلیج کا بحران — Page 136

۱۳۶ ۱۱؍ جنوری ۱۹۹۱ء خطرہ لاحق ہے تو غیر مسلموں سے لاحق ہو سکتا ہے۔مسلمانوں سے اگر خطرہ لاحق ہوسکتا تھا تو وہ خطرہ تو خود سعودیوں سے لاحق ہو چکا ہے اور اس خطرے میں جب تک انہوں نے غیر مسلموں کی مدد نہیں لی اس وقت تک ان علاقوں پر قبضہ نہیں کر سکے۔پس امر واقعہ یہی ہے کہ اب ان علاقوں کا دفاع بھی غیر مسلموں کے سپر دہی ہوا ہے اور مسلمان ریاستیں شامل ہوں یا نہ ہوں اس دفاع سے اس کا کوئی تعلق نہیں یعنی اس امکانی دفاع سے دفاع کا تو ابھی سوال ہی پیدا نہیں ہوا۔امکان ہے۔لیکن اگر آپ دیانتداری سے غور کریں تو اس بات کا کوئی احتمال ہی نہیں ہے کہ عراق سعودی عرب پر حملہ کر دے۔عراق کے پاس تو اتنی طاقت بھی نہیں کہ وہ ان بڑی بڑی طاقتوں کے اجتماعی حملے سے اپنے آپ کو بچا سکے اور سب دنیا تعجب میں ہے کہ یہ غیر متوازن حالت دیکھتے ہوئے صدر صدام حسین کس طرح یہ جرات کر سکتے ہیں کہ بار بار امن کی ہر کوشش کو رد کرتے چلے جاتے ہیں اور جانتے ہیں کہ اس عظیم دباؤ کے نتیجہ میں وہ اس طرح پیسے جائیں گے جس طرح چکی کے اندر دانے پیسے جاتے ہیں اور ناممکن ہے کہ اتنی بڑی قوموں کی اجتماعی طاقت کے مقابل پر عراق کو یت کا یا اپنے ملک کا دفاع کر سکے۔جو عالمی فوجی ماہرین ہیں یہ ان کی رائے ہے اور سب متعجب ہیں کہ یہ کیا ہورہا ہے۔آخر صدر صدام حسین کے پاس وہ کیا بات ہے، کیا چیز ہے جس کی وجہ سے وہ صلح کی ہر کوشش کو رد کرتا چلا جارہا ہے۔تو امر واقعہ یہ ہے کہ ساری طاقتیں مغربی طاقتیں ہیں جنہوں نے اس علاقے میں کوئی کارروائی یا مؤثر کا رروائی کرنی ہے یا کر سکتی ہیں۔مسلمان ممالک کو اور وجہ سے ساتھ ملایا گیا ہے اور اس وجہ کا مقامات مقدسہ کے تقدس سے کوئی دور کا بھی تعلق نہیں صرف مسلمان ممالک کو ہی ٹوکن کے طور پر شامل نہیں کیا گیا ، یورپ کے دوسرے ممالک کو بھی ٹوکن کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔جاپان پر بھی بڑا بھاری دباؤ ڈالا گیا کہ تم شامل ہو جاؤ اور اس طرح دنیا کی مشرق و مغرب کی دوسری قوموں کو بھی ساتھ شامل کرنے کی کوشش کی گئی اس کی وجہ یہ نہیں کہ ان کی ضرورت تھی۔اس کی وجہ یہ تھی کہ دنیا کے سامنے یہ قضیہ اس طرح پیش کیا جائے کہ ساری دنیا کی رائے عامہ اس ظالم کے خلاف ہے۔اس لئے ساری دنیا کی اس رائے عامہ کے احترام میں ہم شدید ترین کا روائی بھی کریں اس کے اوپر حرف