خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 135 of 376

خلیج کا بحران — Page 135

۱۳۵ ۱۱؍ جنوری ۱۹۹۱ء ان کو اسلحہ اور بندوقیں مہیا کرتے تھے اور انگریز ہی روپیہ پیسہ مہیا کرتے تھے۔اور با قاعدہ ان کے ساتھ معاہدے ہو چکے تھے چنانچہ ۱۹۲۴ء میں دوبارہ سعودی خاندان ارض حجاز پر قابض ہوا اور اس قبضے کے دوران بھی بہت زیادہ مقدس مقامات کی بے حرمتی کی گئی اور قتل عام ہوا ہے۔۱۹۲۴ء میں انگریزوں کی تائید سے چونکہ یہ داخل ہوئے تھے اس لئے حال ہی میں جو BBC نے Documentary دکھائی اس میں ۲۴ ء سے پہلے کی بھی انگریزی تائید کا ذکر کرتے ہوئے BBC کے پروگرام پیش کرنے والے نے یہ موقف لیا کہ جس ملک پر سعودیوں نے ہماری تائید سے اور ہماری قوت سے قبضہ کیا تھا اب اس ملک کے دفاع کے لئے ہم پر ہی انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔۔پس اس نقطہ نگاہ سے اگر دیکھا جائے تو بات بالکل اور شکل میں دکھائی دینے لگتی ہے۔جو بھی حکومت اس وقت مقامات مقدسہ پر قابض ہے وہ انگریز کی طاقت سے قابض ہوئی تھی یا مغربی قوموں کی طاقت سے قابض ہوئی تھی۔اور اب دفاع کے لئے بھی ان میں یہ استطاعت نہیں ہے کہ ان مقامات کا دفاع کر سکیں اور مجبور ہیں کہ ان قوموں کو واپس اپنی مدد کے لئے بلائیں۔اب انگریز کا تصور اس طرح کا نہیں جو اس سے پہلے کا تھا۔تمام دنیا پر انگریز کی ایک قسم کی حکومت تھی۔اب انگریز تھا۔اور امریکہ ایک دوسرے کے ساتھ مدغم ہو چکے ہیں۔ان کے تصورات یکجا ہو چکے ہیں اور عملاً جو امریکہ ہے وہ انگریز ہے اور جو انگریز ہے وہ امریکہ ہے۔یعنی جو انگلستان ہے وہ امریکہ ہے اور جو امریکہ ہے وہ انگلستان ہے۔تو اس پہلو سے انگریز نے اپنی تاریخ کا ورثہ امریکہ کے سپر د کیا ہوا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس دور میں ان کے فیصلے ہمیشہ ایک ہوا کرتے ہیں۔یورپ اس سے کچھ مختلف ہے لیکن اس تفصیل میں جانے کی بہر حال ضرورت نہیں ہے۔خلاصہ کلام یہ بنتا ہے کہ ارض مقدس اور مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے احترام کی باتیں کرتے ہوئے جو عالم اسلام کو ان مقدس مقامات کے دفاع کے لئے اکٹھا کیا جارہا ہے یہ سب محض ایک دھوکہ ہے۔ان مقدس مقامات کی حفاظت کے ساتھ دوسرے مسلمان ممالک کی فوجی شمولیت کا کوئی بھی تعلق نہیں ہے۔نہ ان کی ضرورت ہے نہ اس کا کوئی تعلق ہے نہ فی الحقیقت کوئی خطرہ لاحق ہے۔اگر ان علاقوں کو