خلیج کا بحران — Page 127
۱۲۷ ۱۱؍ جنوری ۱۹۹۱ء اور بلکہ اگر Resolutions کو Vito کرنا پڑا تو ویٹو کر دیا۔تو عراق ،امریکہ اور برطانیہ کو مخاطب کر کے یہ کہتا ہے کہ تم اخلاق اور پھر اعلی اصولوں کی باتیں ترک کر دو۔اگر واقعی تمہارے نزدیک ان اصولوں کی کوئی قدر و قیمت ہے تو پھر مجموعی طور پر ان تمام مسائل کو ایک ہی پیمانے سے ناپنے کی کوشش کرو اور ایک ہی طریق پر حل کرنے کی کوشش کرو، جو مسائل عراق کویت مسئلے سے ملتے جلتے پہلے سے موجود ہیں اگر تم ایسا کرو تو ہم اس بات پر رضامند ہوتے ہیں کہ ہم بھی انہی اصولوں کے مطابق جو بھی انصاف کے فیصلے ہیں ان کے سامنے سرتسلیم خم کریں گے۔مغربی قوموں کے خلاف تاریخ کی گواہی ایک پہلو تو ان کے مؤقف کا یہ ہے۔دوسرا پہلو یہ ہے کہ اگر کسی ملک کو کسی ملک پر قبضہ کرنے کی اجازت دے دی جائے محض اس لئے کہ وہ طاقتور ہے تو پھر دنیا سے امن ہمیشہ کے لئے اُٹھ جائے گا یعنی ظلم والے حصے کے علاوہ اس کو الگ پیش کیا جاتا ہے اور قبضے والے حصے کو الگ پیش کیا جاتا ہے گویا وہ دو دلائل ہیں۔اب تعجب کی بات یہ ہے کہ جو قو میں یہ باتیں کرتی ہیں اُن کی اپنی تاریخ اُن کے خلاف ایسی سخت گواہی دیتی ہے کہ کبھی دنیا کی کسی قوم کے خلاف اس قوم کی تاریخ نے ایسی گواہی نہیں دی۔امریکہ کی جو موجودہ حکومت ہے اس کا یورپ سے تعلق ہے اور زمانے کا جو نیا دور شروع ہو چکا ہے اسی زمانے میں یہ لوگ یورپ سے امریکہ گئے۔ستر ہویں صدی کے آغاز کی بات ہے کہ پہلی دفعہ امریکہ دریافت ہوا اور اس کے بعد انہوں نے سارے امریکہ پر، شمالی امریکہ پر بھی اور جنوبی امریکہ پر بھی قبضہ کر لیا اور جو مظالم اُنہوں نے وہاں تو ڑے ہیں اور جس طرح نسل کشی کی ہے اُس کی پوری کی پوری تاریخ انسانی میں کوئی مثال شاذ ہی ملتی ہوگی۔اُن قوموں کو جواس وسیع براعظم کی باشندہ تھیں وہ ایک قوم تو نہیں تھی مگر Red Indians کے نام پر وہ ساری مختلف قو میں مشہور ہیں ان کا تو با قاعدہ ایک منصوبہ بندی کے ذریعے قلع قمع کیا گیا یہاں تک کہ وہ گھٹتے گھٹتے اب آثار باقیہ کے طور پر رہ گئی ہیں۔یہی وہ قومیں ہیں جو جانوروں کے ساتھ ایسی محبت رکھتی ہیں کہ بار بار آپ ان کے پریس