خلیج کا بحران — Page 125
۱۲۵ ۱۱؍ جنوری ۱۹۹۱ء لیتا ہوں اور کبھی بھی کسی قسم کے تعصب کی بناء پر کوئی تنقید نہیں کرتا بلکہ خدا کے حضور اپنے دل کو پاک صاف کر کے حقائق اور سچائی بیان کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔یہ سچائی بعض صورتوں میں بعض لوگوں کو کڑوی لگتی ہے ، بعض صورتوں میں بعض دوسرے لوگوں کو کڑوی لگتی ہے۔مگر اس میں ہماری بے اختیاری ہے۔ہم محض تعصبات کی وجہ سے کسی ایک کا ہمیشہ ساتھ نہیں دے سکتے۔ہمیشہ سچ کا ساتھ دیں گے، ہمیشہ کلام اللہ کا ساتھ دیں گے، ہمیشہ سنت نبوی کا ساتھ دیں گے اور جس نے ہمارا ہمیشہ کا دوست بننا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ کلام اللہ کا دوست بن جائے ، وہ سنت نبوی محمد ﷺ کا دوست بن جائے اور حق کا دوست بن جائے۔سچائی کا دوست ہو جائے۔ایسی صورت میں وہ ہمیں ہمیشہ اپنے ساتھ پائے گا۔موجودہ عالمی صورت حال پس اس مختصر وضاحت کے بعد اب میں دوبارہ اسی مسئلے کو آپ کے سامنے رکھتا ہوں جس پر دو خطبات چھوڑ کر اس سے پہلے کئی خطبات میں میں نے گفتگو کی۔یعنی عراق کو یت کے جھگڑے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی عالمی صورت حال۔اب صرف چند دن ایسے رہ گئے ہیں جن میں امن کی کوششیں بہت تیز کر دی گئی ہیں اور بالآ خر رخ اسی مشورے کی طرف ہے جو مشورہ میں نے آغاز میں قرآنی تعلیم کی صورت میں پیش کیا تھا۔میں نے قوموں کو متوجہ کیا تھا کہ اس کو اسلامی معاملہ رہنے دیں اور عالم اسلام آپس میں نپٹائے۔عالم عرب بھی نپٹانے کی کوشش کرے مگر فی الحقیقت یہ درست نہیں ہوگا کہ عرب اسے صرف اپنا عرب مسئلہ بنالیں لیکن افسوس ہے کہ اس معاملہ میں جو کوششیں شروع کی گئی ہیں وہ بہت ہی تاخیر سے شروع کی گئی ہیں۔اب عالمی مسئلے سے عرب مسئلے کی طرف تو توجہ بڑی بڑی قوموں کی مبذول ہو چکی ہے۔لیکن مسلمان مسئلے کے متعلق ابھی چند دن پہلے پاکستان میں بعض وزارئے خارجہ کی ایک کانفرنس ہوئی۔اس میں اس مسئلے کو چھیڑا گیا اور پاکستان کی طرف سے ایک کوشش کی گئی کہ تمام دنیا کے مسلمان ممالک مل کر اس مسئلے کو سلجھانے کی کوشش کریں لیکن اتنی تاخیر کے ساتھ اُٹھایا گیا قدم ہے کہ بظاہر اس کے نتیجے میں کچھ ہوتا ہوا دکھائی نہیں دیتا۔