خلیج کا بحران — Page 124
۱۲۴ ۱۱؍ جنوری ۱۹۹۱ء کردار کشی کرتے رہے اور گالیاں دیتے رہے اور اس ساری گفتگو کا مقصد یہ تھا کہ نکاح کے بعد جو خاتون گھر میں تشریف لا رہی ہیں اُن کے دل پر کسی قسم کی غلط فہمی کا داغ نہ رہے اور آنحضرت ﷺ کی اس شخصیت کے متعلق کسی قسم کی کوئی بھی غلط نہی باقی نہ رہے۔ان دنوں چونکہ عراق کا معاملہ زیر بحث ہے ، عراق اور کویت کا جو جھگڑا چلا ہے اس ضمن میں میں نے کئی خطبات اس موضوع پر دیئے کہ مغربی قو میں ان مسلمان ممالک سے کیا کر رہی ہیں۔اس دوران مجھے بھی بارہا یہ خیال آیا کہ وہ احمدی مسلمان جو مغربی قوموں سے تعلق رکھتے ہیں اُن کے دل میں کہیں یہ وہم پیدا نہ ہو کہ ہم نسلی اختلافات کی وجہ سے اس طرح مغرب کو تنقید کا نشا نہ بنا رہے ہیں اور احمدیوں کے اندر بھی گویا دبا ہوانسلی تعصب موجود ہے۔پس سب سے پہلے تو میں اس بات کی وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ حضرت اقدس محمد ﷺ کے پیغامات میں سے ایک اہم پیغام یہ تھا جسے آپ نے اپنی زبان سے بھی دیا اور اپنے فعل سے بھی اس کی سچائی ثابت فرمائی کہ مذہب کا نسلی اختلافات سے کوئی تعلق نہیں اور مذہب اس بات کو برداشت نہیں کر سکتا کہ تعصب کے نتیجے میں رکسی سے اختلاف کیا جائے یا کسی سے کسی قسم کا جھگڑا کیا جائے۔جماعت احمد یہ بھی حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی سنت کے معدوم حصوں کو زندہ کرنے والی جماعت ہے۔ایسی سنت کو اپنے کردار میں ازسرنو زندہ کرنے کا عزم لے کر اٹھی ہے جس سنت کے حسین پہلوؤں کو بالعموم مسلمانوں نے بھلا رکھا ہے۔پس اس پہلو سے دُنیا کے کسی انسان کے ذہن میں یہ وہم نہ رہے کہ جماعت احمد یہ بھی نَعُوذبالله من ذلك مشرق اور مغرب کی تقسیموں میں اور اختلافات میں یا سفید اور سیاہ کے اختلافات میں کسی قسم کا نسلی تعصب رکھتی ہے۔کیونکہ نسلی تعصب اور اسلام بیک وقت ساتھ نہیں رہ سکتے پس جو بھی تنقید میری طرف سے کی جاتی رہی ہے اور کی جائے گی وہ اسلام کے اعلیٰ اخلاقی اصولوں کے پیش نظر ہے اور اس پہلو سے جو بھی تنقید کا سزاوار ٹھہرے گا۔اس پر تنقید کی جائے گی مگر تکلیف دینے کی خاطر نہیں بلکہ حقائق سامنے رکھنے کے لئے اور معاملات سمجھانے کی خاطر۔اس تمہید کو پیش نظر رکھتے ہوئے جب بھی میں تبصرہ کرتا ہوں اپنے دل کو خوب اچھی طرح ٹول