خلیج کا بحران — Page 123
۱۲۳ بسم اللہ الرحمن الرحیم مغربی طاقتوں کا متضادطرز عمل ( خطبه جمعه فرموده ۱۱ جنوری ۱۹۹۱ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔ایک ضروری وضاحت ۱۱؍ جنوری ۱۹۹۱ء جب خیبر کا قلعہ فتح ہوا تو اُس کے بعد حضرت اقدس محمد رسول اللہ علی اللہ کا نکاح حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ہوا۔چنانچہ اس نکاح کے بعد اس سفر سے واپسی پر حضرت اقدس محمد رسول اللہ علی اللہ جس اونٹنی پر سوار تھے اسی سواری کے پیچھے حضرت صفیہ کو بھی پیچھے بٹھا لیا۔جو باتیں اس عرصے میں ہوئیں اُن میں سے ایک خاص موضوع پر جو گفتگو آپ نے فرمائی وہ احادیث میں محفوظ ہے۔آپ نے فرمایا کہ صفیہ ! میں تم سے بہت معذرت خواہ ہوں اور دل کی گہرائی سے معذرت کرتا ہوں اس بات پر جو میں نے تمہاری قوم کے ساتھ کی یعنی یہودیوں کا قلعہ خیبر جو فتح کیا اور اس دوران جو یہود کے ساتھ سختی کی گئی اُس کا ذکر کرتے ہوئے حضرت صفیہ سے آنحضرت ﷺ نے معذرت فرمائی لیکن ساتھ ہی فرمایا کہ میں تمہیں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ اس واقعہ سے پہلے تمہاری قوم نے مجھ سے کیا سلوک کیا تا کہ تمہیں یہ غلط فہمی نہ رہے کہ گویا میں نے کسی تعصب کے نتیجے میں نا واجب ظلم کے طور پر قلعہ خیبر پر حملہ کیا اور اس کو تاخت و تاراج کیا۔چنانچہ آنحضور ﷺ نے آغاز سے لے کر اس وقت تک کے یہود قبائل کے ان مظالم کا اور ظلم وستم کا ذکر کرنا شروع فرمایا جو شروع سے ہی وہ کرتے چلے آئے تھے اور پھر اپنی ذات سے متعلق خصوصیت سے حضرت صفیہ کو بتایا کہ کس طرح میرے اوپر یہ لوگ ذاتی حملے کرتے رہے اور میری