خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 122 of 376

خلیج کا بحران — Page 122

۱۲۲ ۲۳ نومبر ۱۹۹۰ء بھیانک شکل بن جاتی ہے پس دعاؤں کا تو وقت ہے کیونکہ دعاؤں کے بغیر دلوں کے قفل کھل نہیں سکتے۔محض نصیحت کی کنجی سے دل نہیں کھلا کرتے جب تک خدا تعالیٰ کی طرف سے توفیق نصیب نہ ہو۔پس دعا ئیں بھی کریں اور کوشش بھی کریں اور مسلمانوں کی توجہ بار باران آیات کریمہ کی طرف مبذول کرائیں اور ان کو بتائیں کہ اسی میں تمہاری زندگی ہے اور اس سے روگردانی میں تمہاری موت ہے لیکن ایسی درد ناک موت ہے جس کے متعلق قرآن کریم کی یہ آیت گواہی دے گی کہ جب تم مرے تھے تو تقویٰ کا حق ادا کرنے والے نہیں تھے۔جب تم مرے تھے تو اسلام کی حالت میں نہیں تھے۔پس تمہاری زندگی مسلمان کہلا کر اسلام کے اوپر چلنے کی کوشش کرتے ہوئے اب بظاہر اسلام کے نام پر جان دینے کے باوجود اگر یہ بد نصیب انجام تمہارا ہوا کہ خدا کا کلام تم پر گواہ بن کر کھڑا ہو جائے کہ اے ایمان کی باتیں کرنے والو، اے تقویٰ کی باتیں کرنے والو، اے اسلام کی باتیں کرنے والو، خدا کا کلام گواہ ہے کہ تم نے نہ ایمان کا مزا چکھا ہے ، نہ تقویٰ کا معنی جانتے ہو ، نہ تم اسلام کی بات کرنے کا حق رکھتے ہو۔پس بہت ہی خطرناک وقت ہے جو ہم اپنی آنکھوں کے سامنے کھڑا دیکھ رہے ہیں۔پس تمام دنیا میں ایک ہی جماعت ہے جو خدا تعالیٰ کی خلافت کی رسی سے وابستہ ہے۔اس حَبْلُ الله سے وابستہ ہے جس نے محمد رسول علی ﷺ اور آپ کی شریعت سے عہد وفاباندھ کر ا کٹھے ہو کر ایک ہی ہاتھ پر جمع ہو کر اس آیت کے مضمون کا حق ادا کر دیا ہے اور حَبْلُ اللہ کو جَمِيعًا اجتماعی طور پر چمٹ گئے ہیں۔پس نہ صرف یہ کہ آپ چمٹے رہیں بلکہ دوسروں کو بھی نجات کی دعوت دیں اور اس رسی کی طرف بلائیں جو زندگی کی واحد ضمانت ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے اور اللہ تعالیٰ سننے والوں کو بھی توفیق عطا فرمائے کہ وہ اس مضمون کو سمجھیں اور اس پر عمل کریں اور یہاں سے اپنے زندگی کا آب حیات حاصل کریں کیونکہ اس کے سوازندگی کا کوئی اور ذریعہ باقی نہیں رہا۔آمین۔