خلیج کا بحران — Page 107
کا بحران 1+2 ۱۶ نومبر ۱۹۹۰ء ہیں، ان میں ہماری کمیٹیوں نے یہ کام کئے ہیں۔یہ حقیقی صورت ابھر کر سامنے آئی ہے۔پس حل تو اس سٹیج کے اوپر ایک دم نہیں سوچے جاسکتے کیونکہ یہ معاملے بعض صورتوں میں بہت الجھے ہوئے ہیں لیکن حل تلاش کرنے کی کوشش شروع کرنی ضروری ہے۔پس جن لوگوں کو یعنی جن قوموں کو آج عراق میں یہ خطرہ دکھائی دے رہا ہے۔میں ان کو ہزار خطرے سارے عالم میں پھیلتے ہوئے دکھا سکتا ہوں۔اگر وہ واقعی امن عالم کے خواہاں ہیں تو جیسا کہ میں نے ان کو مشورہ دیا ہے وہ انصاف پر قائم ہوکر ، اسلامی انصاف پر قائم ہو کر جو نہ مشرق جانتا ہے نہ مغرب، نہ شمال اور جنوب کی تقسیم سے واقف ہے بلکہ محض اللہ کو پیش نظر رکھ کر ایک نظریہ انصاف پیش کرتا ہے اس اسلامی انصاف پر قائم رہ کر اگر یہ اپنے تنازعات کو حل کرنے یا دنیا کے تنازعات اور جھگڑوں کو حل کرنے کی کوشش کریں گے تو میں یقین دلاتا ہوں کہ دنیا کو امن نصیب ہو سکتا ہے۔لیکن محمد رسول اللہ ﷺ کے دست شفقت سے ہی یہ امن نصیب ہوسکتا ہے کیونکہ ایک ہی نبی ہے جس کو رحمتہ للعالمین قرار دیا گیا ہے۔پس جسے خدا نے دنیا کی سب قوموں اور سب جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے اس کے سامنے جب تک تم دست سوال نہیں بڑھاتے ، جب تک تم اس سے فیض نہیں پاتے تم دنیا کو امن نہیں عطا کر سکتے۔اس سلسلے میں جماعت احمدیہ کو ایک عالمگیر جہاد شروع کر دینا چاہئے اللہ تعالی ہمارے ساتھ ہو۔آمین۔