خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 106 of 376

خلیج کا بحران — Page 106

کا بحران 1+7 ۱۶ نومبر ۱۹۹۰ء تقویٰ ایک بہت بڑا وسیع لفظ ہے غیر مذہبی اقدار پر بھی تقویٰ کا لفظ صادق آتا ہے کیونکہ اخلاق حسنہ فی الحقیقت اپنی آخری شکل میں خدا ہی سے تعلق رکھنے والی چیزیں ہیں۔پس جو جسٹس، جو منصف ، اپنے انصاف میں جن دوسری اغراض اور اثرات سے بالا ہو جائے اس کو انصاف کے لحاظ سے ہم متقی کہہ سکتے ہیں۔پس ایسے متقی جسٹس آپ کو پاکستان میں بھی ملیں گے ، ہندوستان میں بھی ملیں گے، سپین میں بھی ملیں گے۔میں جب پرتگال گیا تھا تو وہاں ایک سابق جسٹس سے میری ملاقات ہوئی جن کو پرتگال کی حکومت اچھی نظر سے نہیں دیکھتی تھی کیونکہ یونائیٹڈ نیشنز نے بین الاقوامی معاملات میں جہاں نا انصافی ہورہی ہے ان پر غور کرنے کا کام ان کے سپرد کیا تھا اور ان کے بعض فیصلے پرتگال کے خلاف تھے۔وہ پرتگالی تھے۔ان سے میں جب ملا تو انہوں نے ہنس کر کہا کہ تم اپنے مظالم کے قصے، نا انصافیوں کے قصے بتا رہے ہو، میں تو آواز اٹھاؤں گا لیکن کیا آواز ، کن کانوں میں پڑنے کے لئے اٹھاؤں گا کیونکہ جس ملک میں میں بس رہا ہوں جہاں ساری عمر میں نے عدالت کی ہے۔یہ خود اس معاملے میں مجھ سے ہی انصاف نہیں کر رہے اور دنیا کی ساری قو میں نا انصافی پر مبنی ہیں۔دوستانہ ماحول میں بڑی لمبی گفتگو ہوئی ، بہت معمر بزرگ ہیں۔انسانی قدروں کے لحاظ سے لوگ ان کی عزت کرتے ہیں لیکن سیاسی نقطہ نگاہ سے ان کو ایک طرف پھینکا گیا ہے تو دنیا میں شریف النفس انصاف پر قائم عالمی شہرت رکھنے والے ایسے سابق جسٹس مہیا ہو سکتے ہیں یا دوسرے بعض سیاستدان ، اتفاق سے ایسے بھی پیدا ہو جاتے ہیں جن کی انصاف کے لحاظ سے شہرت ہو جاتی ہے۔ان کو چن کر ، نہ کہ جتھہ بندی کے نتیجے میں لوگوں کو چنا جائے۔پس انصاف کے نقطہ نگاہ سے اگر ایسے لوگوں کو چن کر عالمی خطرات کو مختلف قسموں میں بانٹ کر مختلف کمیٹیاں بنائی جائیں اور یہ فیصلہ ہو کہ ان خطرات کو ہمیشہ کے لئے مٹانے کے لئے بنیادی جھگڑوں کی وجوہ پر غور ضروری ہے اور قوموں کی تعلیم و تربیت ضروری ہے زیادہ سے زیادہ ہمیں یہ کوشش کرنی چاہئے کہ جھگڑوں کی کنہ کوسمجھ کے ان کی تہہ تک پہنچ کر دونوں متقابل یا متصادم قوموں کو پہلی سٹیج پر سمجھایا جائے اور ساری دنیا کی اس نقطہ نگاہ سے تربیت کی جائے اور دنیا کی رائے عامہ کو بتایا جائے کہ یہ جھگڑے