خلیج کا بحران — Page 101
1+1 ۱۶ نومبر ۱۹۹۰ء جہاں تک پرانے تاریخی معاملات ہیں ، ان کو نہ بھی چھیڑ میں اور حال ہی کی باتیں دیکھیں تو بڑے بڑے خطرات امنِ عالم کو اس قسم کے اختلافات کے نتیجے میں در پیش ہو سکتے ہیں۔ثبت اور چین کا معاملہ ہے۔اب چین نے تبت پر زبر دستی قبضہ کیا ہے اور ہندوستان نے بھی شور مچایا اور کوشش کی کہ تبت سے چین کو نکال سکے لیکن چین کی غالب قوت نے ہندوستان کی ایک نہیں چلنے دی اور جو تصویریں یہاں کے ٹیلیویژنز پر تبت کے معاملے میں دکھائی جاتی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر وہ کچی ہیں، پرو پیگنڈا نہیں ہیں تو چینی قوم کی طرف سے تبت قوم کے اوپر بھی بڑے بڑے مظالم توڑے گئے ہیں۔اب یہ بتائیے یعنی سوچئے اور غور کیجئے کہ عراق اگر کویت پر قبضہ کرتا ہے تو اس کا موازنہ تبت پر چین کے قبضے سے کیوں نہیں کیا جاتا جبکہ امر واقعہ یہ ہے کہ وہاں قومی اختلافات بھی ہیں نسلی اور مذہبی اختلافات بھی ہیں اور کئی قسم کے اختلافات ہیں ، جنہیں کچلا گیا ہے۔جن کے نتیجے میں ایک قوم کو کچلا گیا ہے یہاں تو ایک مسلمان ملک ہی ہے جس نے ایک ہمسایہ ریاست پر اس بنا پر قبضہ کیا کہ عملاً تو ان کے درمیان فرق کوئی نہیں ہے، وہی عرب وہ ہیں ، وہی وہ ہیں۔جیسے مسلمان یہ ہیں ویسے وہ مسلمان۔لیکن تاریخی طور پر اور زیادہ پرانی تاریخ نہیں ، اس دور کی تاریخ میں ہی کو بیت عراق کا حصہ تھا اور انگریز حکومت نے اسے کاٹ کر جدا کیا تھا۔میں ہرگز یہ تلقین نہیں کر رہا کہ اس قسم کی تاریخ کے گڑے مردوں کو اکھیڑا جائے۔میں صرف آپ کو یہ دکھا رہا ہوں کہ بنی نوع انسان کا عراق کے خلاف اجتماع کسی تقویٰ اور انصاف پر مبنی نہیں ہے۔اسرائیل جب دریائے اردن کے مغربی کنارے پر قبضہ کر لیتا ہے اور اس قبضے کے نتیجے میں کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی اور کوئی یہ خیال نہیں کرتا کہ اس سے امن عالم کو بڑا بھاری خطرہ درپیش ہو گیا ہے۔دنیا پر خود غرضی کی حکمرانی پس خود غرضی ہے جو اس وقت دنیا پر حاکم ہے اور خود غرضی سے خطرات درپیش ہیں اور جو