خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 64 of 376

خلیج کا بحران — Page 64

۶۴ ۲۶ اکتوبر ۱۹۹۰ء پھر اُس سے بعض ممالک جانبر ہی نہ ہوسکیں اور بہت دیر تک یہ ممالک اپنے زخم چاٹتے رہیں گے۔اس کے سوا ان کے پاس کوئی چارا نہیں ہوگا۔پہلی بات تو یہ ہے کہ اتنی بڑی جنگ جو وہاں ٹھونسی جارہی ہے، اس پہ بڑے اخراجات کئے جارہے ہیں یہ اخراجات کیسے پورے ہوں گے؟ اور تیل کی جو بڑھتی ہوئی قیمت ہے اُس کے نتیجے میں یورپ کو اور دوسری مغربی دنیا کی صنعت کو نقصان جو پہنچے گا اُس کا ازالہ کیسے ہوگا۔مختلف سیمینار ہو رہے ہیں مختلف ممالک میں اور اُن کی رپورٹیں مجھے پہنچتی ہیں اُن میں وہ سب تفصیل تو نہیں صرف دعا کی تحریک کے طور پر خلاصہ آپ کو یہ بتا تا ہوں۔منصوبہ یہ ہے کہ اس جنگ کا تمام خرچ عرب مسلمان قوموں سے وصول کیا جائے گا اور ان معاہدات پر دستخط ہو چکے ہیں کہ جو جنگ تھوپی جائے گی اور تھو پی جارہی ہے اس کا بل سعودی عرب سے لیا جائے گا اور کویت سے اور دوسری قومیں جتنی بھی شامل ہیں اُن سے اُس کی قیمت وصول کی جائے گی۔خاص طور پر سعودی عرب کو سب سے زیادہ بل ادا کرنے پر مجبور کیا جائے گا اور چونکہ سعودی عرب کے اکثر خزانے امریکہ کے ہاتھ میں پہلے سے ہی موجود ہیں اس لئے اُن کے بھاگ جانے کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔دوسری بات یہ کہ تیل کی قیمت بڑھنے کے نتیجے میں مغرب کو جو نقصان پہنچ رہا ہے اُس کے متعلق یہ معاہدہ ہو چکا ہے کہ مغربی قوموں کو وہ زائد قیمت یہ مسلمان ممالک واپس کر دیں گے جو موجودہ مشکلات کی وجہ سے اُن کو بڑھانی پڑی یا موجودہ حالات کے نتیجے میں جو بڑھ گئی ہے۔یہ تو یقینی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ معاہدے کس رنگ میں ہوئے ہیں لیکن ان کے دانشوروں نے اپنی تقریروں میں مختلف کا نفرنسز میں یہ بیان کھل کے دیئے ہیں اور اس سے زیادہ ہمارے پاس کوئی ثبوت نہیں۔یہ بیان بہر حال دیئے گئے ہیں کہ ہم آپ کو اطمینان دلاتے ہیں آپ کی اقتصادیات کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا کیونکہ ہمارا اُن سے یہ سمجھوتہ ہو چکا ہے کہ جتنی بڑھی ہوئی قیمت وہ ہم سے وصول کریں گے اور موجودہ شکل میں مجبور ہیں کہ اُس قیمت کو کم نہ کریں ورنہ دنیا کے باقی ممالک سے بھی وہ نہیں وصول کر سکتے اس لئے تیل کے بڑھے ہوئے منافع میں سے جہاں تک عرب منافع کا تعلق ہے وہ واپس کیا