خلیج کا بحران — Page 55
۵۵ ۲۶ اکتوبر ۱۹۹۰ء قوموں کی چکی گھوم رہی تھی اور اُس کا جو محور تھا اُس پر یہ نظریہ بڑی قوت سے ان قوموں کو اپنے اردگرد باندھے ہوئے تھا وہ جب محور نکل گیا تو لازماً انہوں نے بکھرنا ہے اور کوئی دنیا کی طاقت اس کو روک نہیں سکتی ما سوائے اس کے کہ کچھ عرصے کے بعد بیرونی دباؤ کے نتیجے میں ایسے رد عمل ظاہر ہوں کہ یہ قو میں ایک دوسرے کے ساتھ اپنا مفاد وابستہ سمجھیں لیکن مفاد وابستہ ہونے کا جو نظریہ ہے جس نے شمالی امریکہ کو اکٹھا کیا یہ نظریہ روس میں اس وقت قابل عمل نہیں کیونکہ اگر چہ اشترا کی تصور کے نتیجے میں روسی قو موں کو اکٹھا کیا گیا لیکن درحقیقت یورپ کی قوموں کے سوا باقی قوموں سے نا انصافی کی گئی یعنی یورپین بھی مختلف قوموں میں وہاں موجود ہیں۔جہاں تک روس کے اقتصادی نظام کا تعلق ہے اور یا آپس میں قوموں کے تعلقات کا معاملہ ہے حقیقت یہ ہے کہ مسلمان قومیں اور بعض دیگر پسماندہ قومیں اس طرح برابری کی سطح پر روس میں حصہ دار نہیں رہیں اور اقتصادی مفادات کے لحاظ سے اور صنعتی ترقی کے لحاظ سے اُن کو پس پشت ڈالا گیا۔پس بجائے اس کے کہ وہ باہمی قومی مفاد کے نظریے کے تابع کسی وجہ سے اکٹھا ر ہنے کی کوشش کریں معاملہ اس کے برعکس صورت اختیار کر گیا ہے اور یہ قومیں نہ صرف یہ کہ روسی اشترا کی نظریہ کے ٹوٹنے کی وجہ سے لازماً طبعا بکھرنے کے لئے تیار ہیں بلکہ ماضی کے مظالم کی ، ماضی کی نا انصافیوں کی یادیں ان کو اس بات پر انگیخت کر رہی ہیں۔اسلام کا پیش کر دو قومی نظریہ جہاں تک اسلام کا تعلق ہے اسلام بحیثیت ایک مذہب یہاں سر دست کوئی اثر ظاہر نہیں کرسکتا کیونکہ ان قوموں کی بھاری اکثریت عملاً لا مذہب ہو چکی ہے اگر چہ مسلمان بھی کہلاتی ہو۔ان کے نوجوانوں میں ہی نہیں بلکہ علماء میں بھی خدا کا حقیقی تصور نہیں ہے بلکہ ایک موہوم سا تصور ہے اور خدا کے نام پر عبادت کرنا قربانی کرنا، اپنے آپ کو تبدیل کرنا یہ تو ایک لمبی محنت کو چاہتا ہے دوبارہ اسلام رفتہ رفتہ ان میں نافذ کرنا ہوگا اور یہ ایک ایسا اہم معرکہ ہے جس کو جماعت احمدیہ نے سر کرنا ہے۔بہر حال اسلام ایک اور رنگ میں ان پر اثر پذیر ہو رہا ہے اور وہ ہے اسلام کا قومیت کے ساتھ