خلیج کا بحران — Page 56
۲۶ اکتوبر ۱۹۹۰ء تعلق اور وہی دو قومی نظریہ جس کی ایک شکل علامہ اقبال نے پیش کی وہ ان جگہوں پر روس کی یونائیٹڈ ریپبلک سے نجات حاصل کرنے کی خاطر استعمال کیا جاسکتا ہے اور اسے بغاوت کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے اس لئے نہیں کہ یہ نمازیں نہیں پڑھتے اس لئے جہاد کیا جائے ، اس لئے نہیں کہ نئی اُبھرتی ہوئی شکل میں اُن کی مذہبی آزادیوں پر قدغن لگادی جائے گی بلکہ اس کے بالکل برعکس صورت ہے اور اس کے باوجود یہ قومی نظریہ ایک قوت بن کر اُبھرنے والا ہے۔اس وقت صورت یہ ہے کہ ان کے تبدیل شدہ حالات میں مذہبی آزادی دی جا رہی ہے اور صرف مسلمان علاقوں میں نہیں بلکہ یورپین علاقوں میں بھی عیسائیت کی خاطر بہت سے قوانین میں تبدیلی پیدا کی جارہی ہے جن کا اثر اسلامی دنیا پر بھی لازمی ہوگا۔پس اگر اسلام کے نقطہ نگاہ سے کوئی رد عمل ہوتا تو اُس کے لئے تو ضروری تھا کہ اسلام میں دخل اندازی بڑھتی۔جب دخل اندازی تھی اُس وقت تو کوئی رد عمل نہیں ہوا۔اُس وقت تو روس کا کوئی حصہ یہ طاقت ہی نہیں رکھتا تھا کہ اسلام کے نام پر روس سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کرے۔اب بھی جونئی نسلیں روس کی مرکزی حکومت سے بغاوت کا خیال کر رہی ہیں اُن کو بذات خود تو اسلام سے تعلق نہیں ہے یعنی اکثریت اُن میں سے نماز نہیں جانتی ، قرآن نہیں جانتی۔محبت اسلام کی اُٹھ رہی ہے اس میں کوئی شک نہیں اور اسی محبت سے ہم نے فائدہ اُٹھانا ہے لیکن محبت عمل کے سانچے میں ڈھل جائے یہ بات محض خیالی ہے اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ابھی تک محبت صرف ایک نسلی تصور کے سانچے میں ڈھل رہی ہے، ایک قومی تصور کے سانچے میں ڈھل رہی ہے اور اس کے نتیجے میں اس قوم میں مرکزی روس سے بغاوت کے خیالات اُبھر رہے ہیں۔ان خیالات پر باہر سے چھاپے پڑیں گے، ان خیالات پرستی اسلام بھی چھاپہ مارے گا اور اُنہیں اپنانے کی کوشش کرے گا، ان خیالات پر شیعہ اسلام بھی چھاپے مارے گا اور اُن کو اپنانے کی کوشش کرے گا۔اسی طرح دوسرے مذہبی اور قومی اختلاف جو مسلمانوں کی باہر کی دنیا میں موجود ہیں وہ اپنا اپنا رنگ دکھائیں گے اور ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کریں گے اور مسلمانوں