خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 44 of 376

خلیج کا بحران — Page 44

م م ۲۴ /اگست ۱۹۹۰ء پس جہاں تک انصاف کا تعلق ہے اس طرف واپس جا کر دیکھیں تو اسرائیل نے ہر لڑائی کے بعد کچھ مسلمان علاقوں پر قبضہ کیا اور اسے دوام بخشنے میں مغربی طاقتوں نے ہمیشہ اس کا ساتھ دیا۔ایک انچ زمین بھی ایسی نہیں جسے خالی کروایا گیا ہو سوائے مصر کے اور اس وقت مصر کے سیناء کے ریگستان کو جب یہودی تسلط سے خالی کروایا گیا تو پہلے مصر کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا گیا۔اسرائیل سے ایسی صلح کرنے پر مجبور کیا گیا جس کے نتیجے میں ان کا تخمینہ یہ تھا کہ مصر ہمیشہ کے لئے اسلامی دنیا سے کٹ جائے گا اور ان کی دشمنیوں کا نشانہ بن جائے گا اور اس بناء پر اس کی بقاء ہم پر منحصر ہوگی اور جب تک ہم اس کا سہارا بنے رہیں گے یہ زندہ رہے گا ورنہ یہ ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے گا۔یہ وہ تخمینے تھے جن کی بنا پر انہوں نے ریگستان کے وہ علاقے مصر کو واپس دلواد یے جو یہود کے تسلط میں تھے لیکن اس کے علاوہ کہیں بھی ایک انچ زمین بھی واپس نہیں کرائی گئی یعنی اسرائیل سے ان لوگوں کو زمین واپس نہیں کروائی گئی جو گر کر ذلت کی صلح پر آمادہ نہیں تھے۔Jorden کتنی دیر ان کا دوست رہا ہے ابھی بھی جب وہ خبروں میں اس کا ذکر کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ دیکھو ہمارا دوست، سب سے زیادہ اس پر انحصار کیا کرتے تھے کہتے ہیں کتنے ہم پاگل تھے، کیسا بے وفا دوست نکلا ؟ اور یہ نہیں دیکھتے کہ تم نے اس دوستی میں اس کو دیا کیا ہے؟ تمام عرصہ اس دوست کے وطن کا نہایت قیمتی ایک ٹکڑا اس کے دشمنوں کے قبضے میں رہا اور تم نے ہمیشہ دشمن کو تو طاقت دی اور دشمن کو اس ناجائز قبضے کو برقرار رکھنے میں مدد دی اور اس کے باوجود کہ یہ تمہارا دوست تھا۔مسلمان ایک ہی سوراخ سے بار بارڈ سے جارہے ہیں قرآن کریم نے جہاں فرمایا ہے کہ غیروں کو دوست نہ بناؤ اس سے بھی غلط فہمیاں پیدا کی گئیں اور اس کے نتیجے میں بعض وسطی زمانوں کے مسلمان علماء نے اسلام کو مزید بد نام کروایا۔یہ وہ مواقع ہیں جن میں اسلام فرماتا ہے کہ غیروں سے دوستی نہ کرو۔اسلام اور انصاف کے تقاضوں کو بیچتے ہوئے دوستیاں نہ کرو۔یہ وہ پس منظر ہے جس میں تعلیم ہے اور ساتھ ساتھ ذکر فرما دیا گیا کہ وہ لوگ جو تم سے دشمنی نہیں کرتے جو تم سے نا انصافی کا سلوک نہیں کرتے۔ان سے دوستی سے خدا