خلیج کا بحران — Page 35
۳۵ ۲۴ /اگست ۱۹۹۰ء دکھا رہے ہیں اور اس جنگ کے ایسے واقعات پیش کر رہے ہیں جس سے نائسی ازم کے دور کی یادیں مغرب میں تازہ ہو جائیں اور از خود بغیر کچھ کہے وہ نائسی ازم کے دور اور اس کے محرکات کو جنرل صدام حسین کے دور اور اس کے محرکات کے ساتھ وابستہ کر دیں۔پس یہ ان کا تجزیہ ہے لیکن کسی مغربی مفکر نے یہ نہیں کہا کہ اگر یہ واقعہ بیمار ذہن تھے جو راہنما بن کر ابھرے تو ان بیمار ذہنوں کو پیدا کر نیوالی بیماری کو نسی تھی اور یہ نہیں سوچا کہ اگر بیمار سراڑا بھی دیئے جائیں تو جو بیماری باقی رہے گی وہ ویسے ہی اور سر پیدا کرتی چلی جائے گی اور کبھی بھی اس بیماری سے اور اس بیماری کے اثرات سے یہ نجات حاصل نہیں کر سکتے۔وہ بیماری کیا ہے؟ وہ اسرائیل کا قیام اور اس کے بعد مغرب کا مسلسل اسرائیل سے ترجیحی سلوک ہے۔جب بھی کسی دوراہے پر اسرائیل کے مفاد کو اختیار کرنے یا مسلمان عرب دنیا کے مفاد کو اختیار کرنے کا سوال اٹھا بلا استثناء ہمیشہ مغرب نے اسرائیل کو فوقیت دینے کی راہ اختیار کی اور مسلمان دنیا کے مفادات کو ٹھکرا دیا۔پس اس بیماری کا خلاصہ ایک عرب شاعر نے اپنے ایک سادہ سے شعر میں یوں بیان کیا ہے کہ من كان يلبس كلبه شيء ويقنع لي جلدی ما الكلب خير عنده منی وخيـــر مـنـــه عـنـدی کہ وہ شخص جو اپنے کتے کوتو پوشاکیں پہنا تا ہو اور میرے لئے میری جلد ہی کوکافی سمجھتا ہو، بلاشبہ اس کے لئے کتا مجھ سے بہتر ہے اور میرے لئے کتا اس سے بہتر ہے۔بعینہ یہی مرض کی آخری تشخیص ہے۔عرب دنیا کے دل میں یہ بات ڈوب چکی ہے اور ان کا یہ تجزیہ حقائق پر مبنی ہے کہ مغرب اپنے کتوں کو تو پوشاک پہنائے گا لیکن ہمیں ننگا رکھے گا اور یہ صورتحال اسرائیل اور عرب مواز نے میں پوری طرح صادق آتی ہے۔نماد تشخیص اور غلط رد عمل پس مغرب کا رد عمل ایسے مواقع پر ہمیشہ یہ ہوا کہ اس جاہل عرب دنیا سے بچنے کے لئے