خلیج کا بحران — Page 336
۳۳۶ ۸ مارچ ۱۹۹۱ء یہ موقع تفصیلی بحث کا تو نہیں ہے۔یہ فیصلہ تو ان قوموں نے خود کرنا ہے۔ان کا وہی حق ہے لیکن میں جہاں تک سمجھا ہوں، یہ تیسر اصل جو ہے یہ زیادہ موزوں رہے گا اور علاقے میں امن کے لئے بہت بہتر ثابت ہوگا۔کیونکہ آزاد کشمیر کے لوگ ہم مزاج ہیں اور ایک ہی جیسے مزاج کے لوگ ہیں جن کا وادی کے کشمیریوں سے مختلف مزاج ہے۔وادی کے کشمیریوں کا ایک الگ مزاج اور ایک الگ تشخص ہے اور جموں کے لوگوں کا ایک بالکل جدا گانہ تشخص ہے اور مذہبی لحاظ سے بھی وہ ہندوستان کے قریب تر ہیں۔پس اگر استحکام چاہئے تو غالبا یہ عمل سب سے اچھا رہے گا لیکن اس شرط کے ساتھ وہاں آزادی ہونی چاہئے کہ آزاد ملک اس بات کی ضمانت دے کہ کسی طاقتور ملک کے ساتھ الگ سمجھوتے کر کے ہندوستان اور پاکستان کے امن کے لئے خطرہ نہیں بن سکے گا۔اس کے لئے آپس میں سمجھوتے سے باتیں طے کی جاسکتی ہیں۔اگر یہ نہ کیا گیا اور اسی طرح سکھوں کے ساتھ صلح نہ کی گئی اور دیگر اندرونی مسائل طے نہ کئے گئے تو علاقے میں کبھی امن قائم نہیں ہوسکتا۔پاکستان کے لئے دردمندانہ نصیحت اور پاکستان کے اندر جو درست ہونے والے توازن ہیں مثلاً سندھی، پنجابی ، پٹھان وغیرہ وغیرہ پھر مذہبی اختلافات ہیں یہ سارے مسائل ہیں جو بارود کی طرح ہیں یا آتش فشاں پہاڑ کی طرح ہیں کسی وقت بھی پھٹ سکتے ہیں اور یہی وہ مسائل ہیں جن سے دیگر قومیں فائدہ اٹھایا کرتی ہیں۔پس پیشتر اس کے کہ دیگر قوموں کو فائدے کا موقع ملے آپ اپنے ملک کی اندرونی حالت کو درست کریں۔ہمسایوں کے ساتھ بھی تعلقات درست کریں۔اور اس کے نتیجے میں آپ کو سب سے بڑا فائدہ یہ پہنچے گا کہ توجہ اقتصادی حالت کو بہتر بنانے کی طرف ہو جائے گی۔آپس میں اشتراک عمل کے ساتھ وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَی کی روح کے ساتھ مذہب کو بیچ میں لائے بغیر ہر اچھی چیز پر دوسری قوم کے ساتھ تعاون کے امکانات پیدا ہو جائیں گے اور فوج کا خرچ کم ہو جائے گا اور فوج کا خرچ جتنا کم ہوگا اور اقتصادیات جتنا ترقی کرے گی اتنے ہی امکانات پیدا ہوں گے کہ