خلیج کا بحران — Page 333
۳۳۳ ۸ مارچ ۱۹۹۱ء ہمیشہ شور مچاتی ہیں کہ آمریت کا خاتمہ ہونا چاہئے مگر تیسری دنیا کو اپنا غلام بنانے کے لئے وہاں ان کو آمریت ہی موافق آتی ہے کیونکہ جہاں آمریت ہو وہاں اندرونی خطرات پیدا ہو جاتے ہیں اوراندرونی خطرات سے بچنے کے لئے بیرونی سہارے ڈھونڈ نے پڑتے ہیں اور بیرونی سہارے جس طرح میں نے بیان کیا اس طرح ملتے ہیں۔پھر جب تک مرضی کے مطابق کام کیا جائے اس وقت تک یہ بیرونی سہارے ساتھ دیتے ہیں ، جب مرضی کے خلاف بات کی جائے تو یہ سہارے خود بخو دٹوٹ جاتے ہیں۔یہ وہ لعنت ہے جس کا تیسری دنیا شکار ہے اور اب وقت ہے کہ ہوش سے کام لے۔اب جبکہ استعماریت کا ایک نیا دور شروع ہو چکا ہے اور شدید خطرے لاحق ہیں۔اپنی قومی آزادی کی حفاظت کیلئے عزت نفس کی حفاظت کیلئے اور قوموں کی برادری میں وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کے امکانات پیدا کرنے کی خاطر ضروری ہے کہ ان سب امور پر بڑا گہرا غور کیا جائے اور تیزی کے ساتھ اقدامات کئے جائیں۔بیرونی امداد کے نقصانات خلاصہ یہ کہ امیر ملکوں سے موجودہ طرز پر امداد حاصل کرنے کے یہ نقصانات ہیں۔اول : امداد دینے والا ملک امداد لینے والے کو ذلیل اور رسوا کر کے امداد یتا ہے اور متکبرانہ رویہ اختیار کرتا ہے یہاں تک کہ اگر امداد لینے والا ملک آزادی ضمیر کے حق کو بھی استعمال کرے تو اسے امداد بند کر دئیے جانے کی دھمکی دی جاتی ہے جیسا کہ صدر بش نے حال ہی میں شاہ حسین اور اردن سے سلوک کیا۔دوم :۔امداد کے ساتھ Strings یعنی ایسی شرطیں منسلک کر دی جاتی ہیں جس سے قومی آزادی پر حرف آتا ہے۔سوم:۔امداد کے ساتھ سودی قرضے کا بھی ایک بڑا حصہ شامل ہوتا ہے اور بالعموم بہت بڑی بڑی اجرتیں پانے والے غیر ملکی ماہرین بھی اس کھاتے میں بھجوائے جاتے ہیں جو امداد کا ایک بڑا حصہ کھا جاتے ہیں۔