خلیج کا بحران — Page 321
۳۲۱ ۸ مارچ ۱۹۹۱ء بھاگنا چاہتے ہیں اور وہ اپنے خیال میں ایسے ویٹنام سے بھاگے جہاں 54 ہزار امریکن موت کے گھاٹ اتارے گئے۔اس کے مقابل پر عراق میں ان کا کوئی بھی نقصان نہیں ہوا۔لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ تاریخ اس نظر سے نہیں دیکھتی۔تاریخ نے ویٹنام کو ہمیشہ اس نظر سے دیکھا ہے اور ہمیشہ اسی نظر سے دیکھتی رہے گی کہ امریکن قوم نے اس جدید زمانے میں تہذیب کا لبادہ اوڑھ کر ناحق ایک نہایت کمزور اور غریب ملک پر حملہ کیا اور ساڑھے آٹھ سال تک ان پر مظالم برساتے رہے۔ایسے ایسے خوفناک بم برسائے گئے کہ دیہات کے دیہات، علاقوں کے علاقے بنجر ہو گئے۔پس ویٹنام کی یاد کو وہ کبھی بھلا نہیں سکتے کیونکہ کبھی دنیا انکو بھلانے نہیں دے گی اور اب اس پر عراق کے ظلم و ستم کا اضافہ ہو چکا ہے۔Mr۔Tom King جو برٹش گورنمنٹ کے سیکرٹری آف ڈیفنس ہیں انہوں نے پارلیمنٹ میں اس بربادی کا خلاصہ ان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ ہم نے اس مختصر عرصے میں عراق کے تین ہزار قصبات کو خاک میں ملا دیا ہے۔اب آپ اندازہ کریں کہ جہاں یہ دعوے کئے جاتے تھے کہ عراق کے مظلوموں کو ہم ایک ظالم اور سفاک کے چنگل سے نکالنے کی خاطر یہ جنگ کر رہے ہیں ، وہاں انہوں نے تین ہزار عراقی قصبوں اور شہروں کو تہ خاک کر دیا ہے اور جو باقی تفصیلات ہیں ان کے ذکر کی یہاں ضرورت نہیں کہ کتنے ان کے سپاہی مارے گئے یا دوسری قسم کے کتنے ہتھیاروں کا نقصان ہوالیکن اس تھوڑے سے عرصہ میں تین ہزار شہروں کا مٹی میں مل جانا یہ ایک ایسا واقعہ ہے کہ تاریخ میں کبھی اس تھوڑے سے عرصے میں کسی قوم پر اتنی آفات نہیں توڑی گئیں جتنی عراق پر ان ظالموں نے توڑی ہیں اور اس کے باوجود فتح کے شادیانے بجا ر ہے ہیں۔حیرت ہے، ذلت اور رسوائی کی حد ہے، یہ ایسی ہی بات ہے جیسے کسی امریکن بچے کی لڑائی جاپان کے انو کی‘ سے کرا دی جائے اور وہ اس کو مار مار کے ہلاک کر دے اور پھر نعرے لگائے کہ دیکھو جاپان کو امریکہ پر فتح حاصل ہوگئی۔تمھیں تو میں اکٹھی ہوئی ہیں دنیا کی تمام طاقتوں نے مل کر عراق کے خلاف ایکا کیا ہوا ہے اور ہر قسم کے جدید ہتھیاروں میں ہر میدان میں سبقت تھی، ہر میدان میں بالا دستی تھی اور جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا تھا ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ کر ، دانت نکال کر ، پنجے کاٹ کر کہنا چاہئے جس طرح جانور کے پنجے کاٹے جاتے ہیں،