خلیج کا بحران — Page 28
۲۸ ۱۷ اگست ۱۹۹۰ء اخلاق کو مجروح نہ کریں اور زیادہ دنیا میں اسلام کو تضحیک کا نشانہ نہ بنائیں۔وہ غیر ملکی جو اس وقت ان کی پناہ میں ہیں خواہ ان کا تعلق امریکہ سے ہو یا انگلستان سے ہو یا پاکستان سے ہو اُن کو کھلی آزادی دیں کہ جہاں چاہیں جائیں ہمارا تم پر کوئی حق نہیں ہے۔ہماری ان ملکوں سے اگر لڑائیاں ہیں تو ہم اُس سے پیٹیں گے یا اپنے معاملات کو طے کریں گے مگر تم اپنی ذات میں معصوم ہو اور ہماری امانت ہو اور امر واقعہ یہ ہے کہ اسلامی تعلیم کی رُو سے ہر غیر ملکی اس ملک میں امانت ہوا کرتا ہے جس میں وہ کسی وجہ سے جاتا ہے۔خواہ اس ملک کی اس غیر ملکی کے ملک سے لڑائی بھی چھڑ جائے تب بھی وہ امانت رہتا ہے۔پس اس امانت میں خیانت کا نہایت ہولناک نتیجہ نکلے گا ان کی انتقام کی آگ جو پہلے ہی بھڑک رہی ہے وہ اتنی شدت اختیار کر جائے گی کہ وہ لکھوکھہا معصوم مسلمانوں کو بھسم کر کے رکھ دے گی۔حکومت کے سر براہ اور اس سے تعلق رکھنے والے تو چند لوگ ہیں جو مارے جائیں گے۔وہ مسلمان معصوم عوام مارے جائیں گے، جنگ کے ایندھن بھی وہی بنیں گے اور جنگ کے بعد کے انتقامات کا نشانہ بھی انہیں کو بنایا جائے گا اس لئے سوائے اس کے کہ عراق کی حکومت تقویٰ سے کام لیتے ہوئے اسلامی تعلیم کی طرف لوٹے اس کے لئے امن کی کوئی راہ کھل نہیں سکتی۔یہ قدم اُٹھائے اور دوسرے عالم اسلام کو یہ پیغام دے کہ میں پوری طرح تیار ہوں تم جو فیصلہ کرو میں اُس کے سامنے سر تسلیم خم کرتا ہوں اور ہر گارنٹی دیتا ہوں کہ کویت سے میں اپنی فوجوں کو واپس بلاؤں گا۔امن بحال ہو گا لیکن شرط یہ ہے کہ فیصلہ عالم اسلام کرے اور غیروں کو اُس میں شامل نہ کیا جائے۔اگر یہ تحریک زور کے ساتھ چلائی جائے اور عالم اسلام کے ساتھ جس طرح ایران سے صلح کرتے وقت نہایت لمبی جنگ کے اور خونریزی کے بعد جس میں Millions ہلاک ہوئے یا زخمی ہوئے جو علاقہ چھینا تھاوہ واپس کرنا پڑا۔اگر یہ ہو سکتا ہے تو خونریزی سے پہلے کیوں ایسا اقدام نہیں ہو سکتا اس لئے دوسرا قدم عراق کے لئے ضروری ہے کہ کویت سے اپنا ہاتھ اُٹھا لے اور عالم اسلام کو یقین دلائے کہ جس طرح میں نے ایران سے صلح کی ہے اسلام دشمن طاقتوں سے نبرد آزما ہونے کی خاطر ان کے ظلم سے بچنے کے لئے میں تم سب سے صلح کرنی چاہتا ہوں اور یہ ظلم صرف ہم پر نہیں ہو گا بلکہ سارے عالم اسلام پر ہوگا۔اسلام کی طاقت