خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 27 of 376

خلیج کا بحران — Page 27

ج کا بحران ۲۷ ۷ اسراگست ۱۹۹۰ء مفادات ہیں اور اس وقت تمام عالم اسلام گویا اسرائیل کے مفادات کی حفاظت کے لئے کھڑا ہو چکا ہے اور اس کے مقابل پر ایک ایسے اسلامی ملک کو برباد کرنے کا فیصلہ کیا جاچکا ہے جس کی یقیناً بعض حرکتیں غیر اسلامی تھیں اور تقویٰ اور انصاف کے خلاف تھیں لیکن اس کے باوجود اس بات کا سزاوار تو نہیں کہ اُس کو ہمیشہ کے لئے مٹا دیا جائے اور برباد کر دیا جائے۔انصاف کے خلاف ساری دنیا میں حرکتیں ہو رہی ہیں۔اس سے بہت زیادہ حرکتیں ہو رہی ہیں اور کوئی بڑی طاقت اُس کے لئے اپنی چھوٹی انگلی بھی نہیں ہلاتی۔اس لئے جو کچھ یہ کر رہے ہیں یہ انصاف کی خاطر نہیں کر رہے۔گہری دشمنیاں ہیں بعض انتقامات انہوں نے لینے ہیں اور یہ حملہ حقیقت میں اسلام پر حملہ ہے۔گو بظاہر ایک ایسے اسلامی ملک پر حملہ ہے جس کی اپنی حرکتیں بھی اسلامی نہیں رہیں۔پس یہ دشمنیاں بہت گہری ہیں اور تاریخی نوعیت کی ہیں اور یہ فیصلے بہت اونچی سطح پر کئے گئے ہیں کہ اس وقت ساری دنیا میں سب سے بڑی طاقت کے طور پر عراق اُبھر رہا ہے۔اگر اسے اُبھرنے دیا گیا تو بعید نہیں کہ یہ ارد گرد کی ریاستوں کو ہضم کرنے کے بعد ایک متحد عالم اسلام مشرق اوسط میں پیدا کر دے جس میں ساری دنیا کی تیل کی دولت کا ایک معتد بہ حصہ موجود ہو اور اقتصادی لحاظ سے اس میں یہ صلاحیت موجود ہوگی کہ وہ باقی تمام باتوں میں بھی خود کفیل ہو جائے اور پھر غیر معمولی بڑی فوجی طاقت بن کر اُبھرے یہ ان کے خطرات ہیں۔خطرات کچھ بھی ہوں آج سب سے بڑا خطرہ جو عالم اسلام کو دکھائی دینا چاہئے وہ یہ ہے کہ مسلمان ممالک کی تائید اور نصرت اور پوری حمایت کے ساتھ ایک ابھرتی ہوئی اسلامی مملکت کو صفحہ ہستی سے نیست و نابود کرنے کا فیصلہ ہو چکا ہے اور خود اس میں اس مملکت کے ارباب حل و عقد ذمہ دار ہیں۔ایسی صورت میں کیا ہو سکتا ہے؟ میں یہ سمجھتا ہوں کہ ابھی بھی وقت اتنا نہیں گزر چکا کہ حالات کو سنبھالا نہ جا سکتا ہو لیکن مسلمانوں کے لئے سوائے اس کے کہ خدا اور رسول کی طرف لوٹیں اور کوئی نجات اور امن کی راہ نہیں ہے۔درویشانہ اپیل اور ایک غریبانہ نصیحت جہاں تک عراق کا تعلق ہے ان کے لئے سب سے پہلی بات تو یہ ضروری ہے کہ اسلامی