خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 283 of 376

خلیج کا بحران — Page 283

۲۸۳ ۲۲ فروری ۱۹۹۱ء 5لاکھ 40 ہزار بن چکی تھی۔بمباری کا عالم یہ تھا کہ ساڑھے آٹھ سال تک مسلسل دن رات ویٹنام پر بمباری کی گئی ہے اور ویٹنام پر کل بمباری 25 لاکھ ٹن کی گئی ہے یعنی جنگ عظیم کے 6 سال میں تمام دنیا میں ، یورپ اور ایشیا اور افریقہ وغیرہ دوسری دنیا میں جتنی بمباری ہوئی ہے تقریباً اتنی ہی بمباری صرف ایک ویٹنام پر اس ساڑھے آٹھ سال میں کی گئی جو فلوریڈا ریاست کے بمشکل برابر ہے اور اپنی دنیا وی طاقت کے لحاظ سے فلوریڈا سے بہت پیچھے ہے۔نہ صنعت کی کوئی حالت، نہ کوئی دوسری تجارتی طاقت اس کو حاصل ہے۔ایک غریب ملک ہے لیکن عظمت کردار دیکھیں کہ ساڑھے آٹھ سال تک سر بلند کر کے امریکہ سے ٹکر لی ہے اس عرصے میں جنوبی ویٹنام میں ان کے مرنے والے سپاہی اور شمالی ویٹنام میں مرنے والے سپاہی اور Civilians کی کل تعداد 25 لاکھ تھی۔گویا سارے اسرائیل کا یہودی اگر ہلاک ہو جائے تو اتنی تعداد بنتی ہے اور انہوں نے سرنہیں جھکایا۔امریکن تکبر کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے اور اس ذلت اور رسوائی کے ساتھ امریکہ کو پھر شکست تسلیم کرنی پڑی اور شکست تسلیم کرنے کا طریق بھی ایسا دلچسپ ہے کہ فرانس میں جب Peace کا نفرنس ہو رہی تھی تو شمالی ویٹنام نے عارضی طور پر بھی جنگ بندی سے انکار کر دیا۔انہوں نے یہ اعلان کیا کہ ہاں ہم صلح کی باتیں بھی کریں گے اور لڑائی بھی جاری رکھیں گے چنانچہ یہ جو سبق آج عراق کو دے رہے ہیں یہ انہوں نے ویٹنام سے سیکھا تھا کہ صلح کی باتیں بھی کریں گے اور لڑائی بھی جاری رکھیں گے۔جنگوں کی تاریخ میں انتہائی خطر ناک مثال کا اضافہ پس وہاں جو دنیا کی سب سے بڑی طاقت کا تکبر ٹوٹا ہے وہ اتنی ہولناک نفسیاتی شکست ہے کہ کسی طرح وہ اس کا بدلہ چاہتے ہیں اور اپنی قوم کی خود اعتمادی کو بحال کرنا چاہتے ہیں لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ ٹوٹی ہوئی کمریں جڑا نہیں کرتیں اور باوجود اس کے کہ عراق پر بمباری کی رفتار کے لحاظ سے ویٹنام کے مقابل پر 4 گنا زیادہ شدت کی جارہی ہے۔ابھی تک یہ دودنوں کی جنگ کہہ رہے تھے ،