خلیج کا بحران — Page 262
۲۶۲ ۲۲ فروری ۱۹۹۱ء کر لیا اور جس شکار پر نکلتے ہیں ان Heel ہوئے ہوئے ساتھیوں کے بعد اور بھی کچھ جانور ہیں جو اس شوق میں اور اس امید پر ہمارے پیچھے لگے ہوئے ہیں کہ جب شکار ہوگا تو بچا کھچا ہمیں بھی ملے گا۔یہ صدر بش کا تصور ہے ان تمام اقدامات سے متعلق جواب تک کویت کے نام پر عراق اور مسلمان دنیا کے خلاف کئے جاچکے ہیں لیکن ایک اور پہلو سے دیکھیں تو یہ بھی کہا جاسکتا ہے اور یقیناً یہ کہنا زیادہ درست ہے کہ صدر بش سے زیادہ یا امریکہ سے زیادہ اسرائیل کو یہ حق ہے کہ یہ کہتے کہ ہم نے سب دنیا کو Heel کر لیا ہے اور امریکہ بھی ہمارے پیچھے اسی طرح چل رہا ہے جس طرح شکاری کے ساتھ کتے اس کی ایڑی کے پیچھے چلتے ہیں اور یہ تصویر زیادہ درست ہے اور دنیا اسی نظر سے ان سارے حالات کا جائزہ لے رہی ہے۔زاویہ نظر بدلنے سے چیز مختلف دکھائی دینے لگتی ہے۔ایک زاویہ امریکہ کا ہے، ایک دوسرا زاویہ ہے۔میں اس کی چند مثالیں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔امریکہ اور روس کے اتحادیوں کا خیال یہ ہے کہ اسرائیل ان کے تیل کے اور دیگر مفادات کا محافظ ہے اس لئے ہر قیمت پر ہمیں اسرائیل کو راضی رکھنا چاہئے خواہ اس کے نتیجے میں ساری دنیا ناراض ہو۔اس کے برعکس اسرائیل کا بھی ایک نظریہ ہے اور وہ نظریہ یہ ہے کہ اگر تمام ایشیا کی رائے عامہ ہمارے مخالف ہو جائے تو اس کے باوجود ہمیں ایک مغربی ملک کا ساتھ زیادہ پسند ہوگا۔پس امریکہ یہ سمجھ رہا ہے اور امریکہ کے اتحادی بھی کہ ان کو اسرائیل کی ضرورت ہے۔واقعہ اسرائیل کے نقطہ نگاہ سے اسرائیل کو مغرب کی ضرورت ہے یہ کھیل کیوں اس طرح جاری ہے ؟ کس مقام تک، کس انتہا تک پہنچے گا؟ اس سلسلے میں میں آپ کے سامنے بعض باتیں بعد میں رکھوں گا۔جہاں تک تیل کے مفادات کا تعلق ہے امر واقعہ یہ ہے کہ جس طرح گہری نظر سے اسرائیل کے مزاج کے مطالعہ کا حق ہے یہ لوگ اس میں ناکام رہے ہیں۔اسرائیل کا مزاج ایسا ہے کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ تیل کے اتنا قریب رہتے ہوئے وہ بالآخر تیل پر حملے کی کوشش نہ کرے۔تیل کا محافظ اسرائیل کو بنانا ویسا ہی ہے جیسے پنجابی میں کہا جاتا ہے کہ۔دودھ دارا کھا بلا تے چھولیاں دارا کھا