خلیج کا بحران — Page 260
۲۶۰ ۱۵ فروری ۱۹۹۱ء کے لئے جس میں مبتلا ہو بیٹھے ہیں اور واقعی دنیا میں قیام امن کے لئے کیا کرنا چاہئے ، اپنے اندر کیا تبدیلیاں پیدا کرنی چاہئیں اور پھر یہود کو مشورہ دوں گا کہ تم اگر ان باتوں سے باز نہیں آؤ گے تو قرآن کریم نے تمہارے لئے کونسا مقدر پیش کیا ہے اور اگر تم فائدہ نہیں اٹھاؤ گے ان نصیحتوں سے تو پھر تم اس مقدر سے بچ نہیں سکتے۔اور تیسرا عربوں اور مسلمانوں کو مشورہ دوں گا انشاء اللہ کہ اس نئی بدلتی ہوئی دنیا میں تمہیں کیا کردار ادا کرنا چاہئے۔کونسی غلطیاں کر بیٹھے ہو جن کا اعادہ نہیں ہونا چاہئے اور آئندہ کے لئے کیا لائحہ عمل ہو۔اور چوتھا دنیا کی مختلف قوموں کو مشورہ دوں گا کہ کس طرح جھوٹے خداؤں سے آزادی کے لئے ایک معقول اور پر امن جدوجہد کے لئے تیار ہو جاؤ۔یہ جاہلانہ جذباتی باتیں ہیں کہ انگریز سے نفرت کرو، امریکہ سے نفرت کرو۔یہ ہیں ہی پاگلوں والی باتیں۔دنیا میں نفرت کبھی کامیاب ہو ہی نہیں سکتی۔اعلیٰ اقدار کامیاب ہوتی ہیں۔محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سیرت کامیاب ہوا کرتی ہے اور وہ خلق عظیم کی سیرت ہے۔مسلمان اگر اس سیرت کو اپنا لیں تو سب دنیا کے لئے ایک عظیم الشان نمونہ بنے گا اور وہ ایک ایسی سیرت ہے جو مغلوب ہونے کے لئے پیدا نہیں کی گئی۔کوئی دنیا کی طاقت سیرت محمد پر غالب نہیں آسکتی۔پس اس انصاف کی سیرت کی طرف لوٹو۔اس نمونے کو اختیار کرو۔تو پھر انشاء اللہ ساری دنیا کے مسائل طے ہو سکتے ہیں اور وہ حقیقی انقلاب نو آ سکتا ہے جسے ہم اس دنیا میں خدا کی عطا کردہ ایک جنت قرار دے سکتے ہیں۔اگر نہیں تو اسی طرح یہ لڑتے مرتے رہیں گے۔اسی طرح دنیا ابتلاؤں اور فسادوں میں مبتلا رہے گی۔لیکن اب چونکہ وقت زیادہ ہو گیا ہے اس لئے باقی باتیں آئندہ جمعہ کو۔انشاء اللہ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ