خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 254 of 376

خلیج کا بحران — Page 254

۲۵۴ ۱۵ فروری ۱۹۹۱ء پڑے گا لیکن ہزار لاشیں وہاں سے امریکہ پہنچیں گی تو American Public opinion جو ہے وہ ڈانواں ڈول ہوگی اور اس پہ زلزلہ طاری ہو جائے گا۔پس اس لئے یہ امن کی کوششیں ہیں اور اس پہلو سے صدر صدام نے جو حکمت عملی استعمال کی ہے بڑی عمدہ اور غالب حکمت عملی ہے۔دعا کرتے رہنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ اپنے بندوں پر جھوٹے خدا نافذ نہ ہونے دے۔دنیا میں سب سے بڑا دکھ تو حید کے زخم لگنے کا دکھ ہے۔اگر اسی طرح جھوٹے خداؤں کو خدائی کی اجازت ملتی رہی تو خدائے واحد کی عبادت کرنے والے کون آئیں گے اور کہاں رہیں گے اس دنیا میں تو پھر نہیں رہ سکتے پس سب سے بڑا خطرہ تو حید کو ہے، خانہ کعبہ کو ہے۔خانہ کعبہ کی عظمت کو ہے محمد مصطفی کے خدا کی وحدت کو ، تو حید کو خطرہ ہے ، خطرہ ان کے نام کو ہے۔تو حید کو تو انشاء اللہ کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔لیکن خدا کی غیرت بھڑ کانے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے بھی اسی قسم کی التجائیں کی تھیں کہ ، اے خدا! آج اس بدر کے میدان میں اگر تو نے ان مٹھی بھر عبادت کرنے والوں کو جو میرے ساتھی اور میرے عاشق ہیں ان کو مرنے دیا تو لن تعبد فی الارض ابداً “ اے میرے آقا! ان کے بعد پھر اور کوئی تیری کبھی عبادت نہیں کرے گا۔پس آج تو حید کی عزت اور عظمت کا سوال ہے اور احمدی اس بات میں سینہ سپر ہیں۔اور کامل یقین کے ساتھ میں آپ کو بتا تا ہوں کہ ساری دنیا کے احمدی ایک صف کے طور پر، ایک بدن کے عضو کی طرح ایک دوسرے سے تعلق رکھتے ہوئے تو حید کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لئے آج بھی تیار ہیں۔کل بھی تیار رہیں گے اور آئندہ بھی ہمیشہ تیار ہیں گے۔آپ کو یاد ہو گا حضرت خلیفہ المسح الثالث رحمہ اللہ تعالے فرمایا کرتے تھے کہ اگلی صدی توحید کی عظمت اور قیام اور نافذ کرنے کی صدی ہے اور یہ بالکل درست ہے تو حید کو جو خطرے آج لاحق ہوئے ہیں، در پیش ہیں یہ ہمیں تیار کرنے کے لئے درپیش ہیں، ہمیں بتانے کے لئے کہ تم کتنی بڑی عظیم ذمہ داریاں ادا کرنے کے لئے پیدا کئے گئے ہو اور کھڑے کئے گئے ہو۔