خلیج کا بحران — Page 244
۲۴۴ ۱۵ فروری ۱۹۹۱ء بار بار مجھ پر یہ دباؤ ڈالا گیا کہ میں اسرائیل کا تاریخی تعلق فلسطین کی زمین سے قبول کرلوں لیکن میں جانتا ہوں کہ یہ بہت گہری سازش ہے بہت خطرناک سازش ہے بہت لمبا اثر دکھانے والی سازش ہے۔ایک دفعہ اگر میں نے اس کو تسلیم کر لیا تو پھر یہود کوروکنے کے لئے اور پابند رکھنے کے لئے ہمارے پاس کوئی عذر نہیں رہے گا۔اپنی ساری پرانی تاریخ دہرا کر کہیں گے ہم نے وہاں یہ کیا تھا اسی لئے آج ہمیں یہ حق ہے۔ہم نے فلاں زمانے میں یہ کیا تھا اس لئے آج ہمیں یہ حق ہے۔(The Origins & Evolution of the palestine Problem 1917-1989۔Pages 21-28)۔Published by Uno چنانچہ آخر تک وہ Adamant رہے ہیں اس کے خلاف انہوں نے ہر ممکن کوشش کی مگر لائیڈ جارج کی کیبنٹ اندر اندر یہود کے بعض مخفی منصوبوں کے نتیجے میں ، آہستہ آہستہ یہود کے دائرہ اثر میں منتقل ہوتی رہی اور بالآخر انہوں نے پارلیمنٹ میں یہ مسئلہ پاس کروالیا کہ یہود کو فلسطین میں اس بنا پر دوبارہ قائم کیا جائے کہ ایک Historical Conection ہے وہ پہلا Phrase جس پر بڑی سختی سے لارڈ کرزن نے اعتراض کیا تھا اس کو چالاکی سے بدل کر صرف یہ کر دیا گیا کہ Historical Connection ہے اور اس کے علاوہ جو تحریر ہے وہ اب میں اس وقت پڑھ کر نہیں سنا سکتا لیکن جب آپ پڑھیں گے تو حیران ہوں گے کہ بہت ہی شاطرانہ زبان استعمال کی گئی ہے تا کہ یہود کے سارے مقاصد اس سے پورے ہو جائیں۔اگلا حصہ، جب یہ ہاؤس آف لارڈز میں پیش ہوا تو برٹش ہاؤس آف لارڈ ز کو یقیناً ہمیں یہ حق دینا چاہئے کہ انہوں نے پورے انصاف کا مظاہرہ کیا اور انصاف کے علاوہ ایک بہت سخت تنبیہ کی خود اپنی قوم کو کہ تم ایسی حرکت نہ کرو ورنہ یہ بہت ہی خطرناک ظلم ہوگا جس کے دور دور تک اور بہت دیر تک اثرات جاری رہیں گے۔ہم نہیں کہہ سکتے کہ کبھی یہ بداثر ختم ہو بھی سکیں گے کہ نہیں چنانچہ ہاؤس آف لارڈز نے اس کو Reject کیا اور بعد میں ہاؤس آف کامنز House of Commons میں اس کو دوبارہ پیش کر کے پاس کروا گیا۔ہاؤس آف لارڈز میں ایک ممبر تھے