خلیج کا بحران — Page 241
۲۴۱ ۱۵ فروری ۱۹۹۱ء تک میری ذات کا تعلق ہے میں آپ سے سو فیصد متفق ہوں بالکل یہی ہوا ہے۔لیکن جہاں تک رسمی پوزیشن لینے کا تعلق ہے میں اس پوزیشن میں نہیں ہوں کہ میں اس کا اقرار کرسکوں، اس بیان کو امریکہ نے چھپانے کی کوشش کی کیونکہ جب انہوں نے واپس جا کے رپورٹ پیش کی تو اس رپورٹ میں یہ اور ایسی اور باتیں بعض اعترافات شامل تھے، لیکن صدر صدام حسین نے اس کو Publicize کر دیا ہے، کھول دیا ہے۔اور انگلستان کے بعض اخباروں میں چھپ چکی ہے جو میں نے پڑھی ہے۔تو اول ذمہ داری اس جنگ کی امریکہ پر عائد ہوتی ہے اگر چہ صدام کو استعمال کیا گیا ہے اور صدام کی جہاں تک ذمہ داری ہے اس میں بعض ایسی وجوہات ہیں جن کے پیش نظر ہم اسے کسی حد تک مجبور بھی قرار دے سکتے ہیں۔اتحادیوں کی ذمہ داری ظاہر ہے اور ظلم کی بات یہ ہے کہ اتحادیوں نے اپنے مقاصد کی خاطر یہ کام کیا ہے اور تمام اتحادیوں کے کچھ ذاتی مقاصد اور منفعتیں تھیں جو اس کے ساتھ وابستہ تھیں۔اسرائیل کی ذمہ داری یہ ہے کہ سارا منصوبہ اسرائیل کا ہے جیسا کہ میں پہلے اشارہ کر چکا ہوں اور اسرائیل کی اس سے بڑی چال دنیا میں ہو ہی نہیں سکتی تھی کہ ایک بڑھتی ہوئی مسلمان طاقت کو جو اس کے لئے حقیقی خطرہ بن سکتی تھی لڑائی کے دوران اس طرح برباد کرا دے کہ روپیہ مسلمان حکومتوں کا استعمال ہو یا بعض اور اتحادیوں کا اور سپاہی امریکنوں اور انگریزوں کے اور عربوں کے استعمال ہوں۔اور مقصد اسرائیل کا حاصل ہو اور ضمناً اس کو کچھ اور علاقوں پر قبضہ کرنے کے لئے بہانہ بھی مل جائے اور بلین ڈالر منافع کے بھی ہاتھ آجائیں اور یہ حق بھی رہے کہ جب چاہوں میں مرے مٹے (اگر خدانخواستہ عراق کا یہ حال ہو جائے تو مرے مٹے ) عراق پر اپنی مزید انتظامی کارروائی پوری کروں۔تو جرم کا سب سے بڑا فائدہ اسرائیل کو پہنچا ہے اور سب سے زیادہ اس میں وہ ذمہ دار قرار پاتا ہے۔یونائیٹڈ نیشنز بھی ذمہ دار ہے جب پاکستان میں اسمبلیوں میں ممبران کی خرید وفروخت شروع ہوئی تھی تو اس وقت یہ اصطلاح سامنے آئی تھی کہ ہارس ٹریڈنگ ہورہی ہے۔ہارس ٹریڈنگ