خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 240 of 376

خلیج کا بحران — Page 240

۲۴۰ ۱۵ فروری ۱۹۹۱ء guard and his mistress۔Such targeting, Cheney was quick to point out, not only is political dynamite but also " is potentially a violation" of a 1981 Executive order signed by President Ronald Reagan flatly banning any U۔S involment in assassination۔( The Time October 1, 1990) اب اتنے بڑے عہدیدار جو چیف آف ائیر سٹاف ہیں ان کا یہ بیان ایک معنے رکھتا ہے کسی غیر متعلق مبصر کا بیان نہیں ہے کہ دراصل صدر صدام حسین پر قاتلانہ حملہ کروانے کا منصوبہ تھا اور ان کے خاندان پر اور دوسرے بڑے لوگوں پر اور اس ذریعے سے وہ مسئلہ حل کرنا چاہتے تھے۔اس کے متعلق امریکہ نے بہت سخت رد عمل دکھایا لیکن کوئی جواز ان کے پاس نہیں ہے اس بیان کےخلاف۔واقعہ یہ ہے کہ اس سے پہلے صدر قذافی پر ایسا ہی حملہ کروا چکے تھے اور سب دنیا جانتی ہے۔امریکی قانون صدر کو یہ اجازت نہیں دیتا کہ کسی غیر ملک میں قتل کروائے اگر چہ قتل کرواتے رہتے ہیں اور اس کا نام انہوں نے کورٹ آپریشنز (Covert Oprations) رکھا ہوا ہے یعنی مخفی کا روائیاں مگر جب مخفی کارروائی ظاہر ہو جائے تو یہ ایک بہت بڑا جرم بن جاتا ہے اس لئے یہاں یہ جرم بن چکا ہے اور امریکہ لازماً اس میں سب سے بڑا ذ مہ دار ہے۔تیسری بات اقوام متحدہ کے نام پر یہ کارروائی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بہت سے ملک خریدے گئے ہیں۔بہت سے ملکوں پر سیاسی دباؤ ڈالا گیا ہے۔بہت سے ممالک کو آئندہ کی لالچیں دی گئی ہیں اور ہے یہ سارا امریکن کھیل۔اس بارہ میں صدر صدام ہمیشہ سے یہی کہتے رہے ہیں کہ اس کا نام یونائیٹڈ نیشنز رکھنا تمسخر ہے یونائیٹڈ نیشنز کے ساتھ۔عملاً اقوام متحدہ نہیں ہے بلکہ امریکہ ہے لیکن حال ہی میں جو واقعہ ہوا ہے وہ یہ کہ یونائیٹڈ نیشنز کے سیکرٹری جنرل جب گفت وشنید کے لئے صدام حسین کے پاس گئے تو انہوں نے اس خیال کا اظہار کیا کہ یہ تو ساری کارروائی دنیا کو دھوکا دینے کے لئے امریکن کارروائی ہے۔اس کا نام یونائیٹڈ نیشنز رکھنا ہی غلط ہے تو ڈی کو ئیار نے کہا کہ جہاں