خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 230 of 376

خلیج کا بحران — Page 230

۲۳۰ ۸ فروری ۱۹۹۱ء خطرہ ہے کیونکہ شام ایک بہت بڑی طاقت بنا ہوا ہے اور شام کی بڑی سخت بے وقوفی اور غلطی ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ اس وقت اتحادیوں کے ساتھ شامل ہونے کے نتیجے میں آئندہ شام محفوظ ہو چکا ہے جب تک اسرائیل موجود ہے شام محفوظ نہیں ہے۔اور پھر ایران کو خطرہ ہے اور پھر ترکی Turky کو خطرہ ہے اور ایران اور Turky کے متعلق میں سمجھتا ہوں کہ یہ خواب اس طرح پورا کیا جائے گا کہ ترکی اور ایران کے درمیان آپس میں مخاصمت جو پہلے بھی ہے بڑھائی جائے گی اور اس کے نتیجہ میں کسی وقت آئندہ ان دونوں مسلمان ملکوں کے درمیان اسی طرح لڑائی کروائی جائے گی جس طرح خود امریکنوں نے اور اتحادیوں کی مخفی تائید کے نتیجے میں میں سمجھتا ہوں کہ عراق کو انگیخت کیا گیا تھا کہ وہ ایران پر حملہ کرے اور امریکہ کے اتحادی عرب ممالک نے اس کی ہر طرح مدد کی اور امریکہ کے اتحادی مغربی ممالک نے عراق کو مسلح کرنے میں اور اس کے Mass Destruction کے ہتھیار بنانے کے سلسلہ میں پوری مدد کی۔تو خواب کا جو پس منظر ہے وہ یہ ہے کہ خواب جس سمت میں آگے بڑھے گی اور پھیلے گی وہ سمت بھی اس پس منظر کے نتیجے میں ہمیں دکھائی دینے لگی ہے اور خواب آخر پر اس طرح پوری ہوگی کہ پہلے جس طرح ایک مسلمان طاقت کو دوسری مسلمان طاقت کو برباد کرنے کے لئے استعمال کیا گیا اور طاقتور بنایا گیا پھر اس بنائی ہوئی طاقت کو برباد کرنے کا منصوبہ بنایا گیا اور دوسرے مسلمان ممالک کو اس میں شامل کیا گیا۔اس کا اگلا قدم کیا ہوگا؟ اسی طرح جو بچی کچھی مسلمان حکومتیں ہیں ان کو یکے بعد دیگرے بر باد کیا جائے گا۔سیہ وہ موت کا خواب ہے جو صدر بش نے دیکھا ہے اور جسے وہ Peace کا خواب کہتے ہیں۔مظلوموں کے خون سے رنگے ہوئے ہاتھ عراقیوں اور دیگر فلسطینیوں وغیرہ مسلمان مظلوموں یعنی عرب مسلمانوں کے خون سے جس طرح یہ ہاتھ رنگے جاچکے ہیں اس پر مجھے Mecbetth کی چند لائنیں یاد آگئیں۔Lady Mecbetth جس نے اپنے خاوند کو بادشاہ کوقتل کرنے پر آمادہ کیا تھا اور اس کے خاوند