خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 220 of 376

خلیج کا بحران — Page 220

۲۲۰ ۸ فروری ۱۹۹۱ء بڑھ گیا جس کا میں پہلے ذکر کر چکا ہوں اور 1956 ء کی جنگ کے آخر پر یہود کے قبضے میں اٹھاسی ہزار کلومیٹر کا رقبہ ہو چکا تھا۔اس سے آپ اندازہ کریں کہ جو بات پانچ ہزار سے شروع ہوئی تھی کہاں تک پہنچی ہے۔آخری جنگ جو اس علاقے میں موجودہ جنگ سے پہلے لڑی گئی وہ یوم کیبور کی جنگ کہلاتی ہے۔یوم کیبور کی جنگ کو یہ مسلمانوں کی طرف سے عرب ممالک کی طرف سے جارحانہ جنگ قرار دیتے ہیں۔حالانکہ یہ بات درست نہیں۔واقعہ یہ ہے کہ 1967ء کی جنگ شاید میں 57ء کی کہہ چکا ہوں اگر کہا ہے تو غلط ہے 67 ء کی جنگ جو 56ء کی جنگ کے گیارہ سال بعدلڑی گئی تھی۔یہ یہود کی جارحانہ جنگ تھی جس کے نتیجے میں یہ سارا علاقہ ان کے قبضے میں آیا جس کا میں ذکر کر چکا ہوں۔اٹھاسی ہزار کلومیٹر سے زیادہ رقبہ۔اس کے بعد 1973ء میں یوم کیبور کی جنگ ہوئی یوم کیبور یہود کا ایک مقدس دن ہے۔اس دن اچانک اسرائیل پر شام اور اردن کی طرف سے مشترکہ طور پر حملہ کیا گیا بیان کیا جاتا ہے کہ یہ جنگ خالصہ عربوں کی جارحانہ جنگ تھی جس میں یہود بالکل بے قصور تھے یہ بات درست نہیں۔وجہ یہ ہے کہ 1967ء کی جنگ کے بعد یونائیٹڈ نیشنز نے اور یونائیٹڈ نیشنز کی سیکیورٹی کونسل نے ایک ریزولیوشن پاس کیا جس کا نمبر ہے 242 اس ریزولیوشن کے نتیجے میں انہوں نے اسرائیل کی جارحانہ جنگ کی مذمت کرتے ہوئے متفقہ طور پر حکم دیا کہ اسرائیل اپنی فوجوں کو ان تمام علاقوں سے پیچھے ہٹالے جو اس جنگ کے نتیجے میں اس کے ہاتھ میں آئے ہیں اور ساتھ ہی یہ شوشہ بھی اس ریزولیوشن میں چھوڑ دیا گیا جس طرح British اور Western Diplomacy کا طریق ہے کہ جب اس فیصلے پر عملدآمد کا وقت ہو تو کچھ اور بحشیں ساتھ چھڑ جائیں اس میں شوشہ بھی ساتھ رکھا گیا کہ اس علاقے کی سب حکومتوں کا حق ہے کہ ان کے امن کا تحفظ ہواور ان کی ایسی شکل ہو جغرافیائی طور پر کہ گویا ان کے امن کو خطرہ نہ پیش آئے۔مطلب یہ تھا کہ اس بہانے جب بھی اس فیصلے پر عملدرآمد کا وقت آئے گا تو یہ کہا جائے گا کہ یہود کی بقا کا تقاضا ہے یا اسرائیل کی بقا کا تقاضا ہے کہ علاقے میں اتنار دو بدل کرو اور ترمیم کر دمگر اس کے کسی پہلو پر بھی عملدرآمد نہیں ہوا۔