خلیج کا بحران — Page 202
۲۰۲ یکم رفروری ۱۹۹۱ء جارحیت کو کالعدم کرو، دوسری جارحیت کو کا لعدم کرو۔دونوں طرفیں برابر ہو جاتی ہیں اور انصاف قائم ہو جاتا ہے یہ معاملہ آگے نہیں بڑھتا۔یہ دراصل مقصد تھا صدر صدام کا جو بار بار Linkageکےاوپر زور دیتے چلے جارہے تھے۔دنیا کی بڑی طاقتوں نے جن کا اس مسئلے سے تعلق ہے اس کو کچھ اور رنگ میں، عمد أغلط رنگ میں دنیا کے سامنے پیش کیا اور دنیا کی رائے عامہ کو دھوکا دینے کی کوشش کی حالانکہ صدر صدام کا مؤقف وہی تھا جو میں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں۔جائز موقف کو غلط رنگ دینے کی کوشش مغربی دنیا نے Linkage کو اس طرح عمد اغلط سمجھا کہ گویا صدر صدام یہ کہہ رہے ہیں کہ چونکہ اسرائیل نے ہمارے ایک مسلمان بھائی ملک کے کچھ علاقے پر قبضہ کر لیا ہے اس لئے اس غصے میں میں نے بھی اپنے ایک مسلمان بھائی کے علاقے پر قبضہ کر لیا ہے اور دونوں ایک ہی جیسے معاملات ہیں۔حالانکہ اس میں کوئی منطق نہیں ہے اور انہوں نے اسی وجہ سے اس Linkage کے مؤقف کا مذاق اڑایا اور اس کو بالکل بودا اور بے معنی قرار دیا اور کہا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے۔سب دنیا جانتی ہے کہ تیل کے جھگڑے کے نتیجے میں ، یعنی تیل کا جھگڑا ان معنوں میں کہ کویت کی تیل کی فروخت کی جو پالیسی ہے اس سے عراق کو اختلاف تھا اور کچھ اور ایسے مسائل تھے تو تیل کے جھگڑوں کے نتیجے میں یا کچھ اور جھگڑوں کے نتیجے میں عراق نے فیصلہ کر لیا تھا کہ میں کو بیت پر قابض ہو جاؤں گا اور وہ جھگڑے دراصل بہانے تھے۔مقصد یہ تھا کہ کویت کی تیل کی دولت پر قبضہ کرے تو کہتے ہیں اس میں Linkage کہاں سے ہو گیا۔ان دونوں باتوں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے حالانکہ جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں بڑا گہرا تعلق ہے۔وہ کہتے تھے کہ اگر تم جارحیت کے خلاف ہو تو تم اس جارحیت کو کا لعدم کرو جو پہلے اس علاقے پر ہو چکی ہے، میں بھی کا لعدم کر دیتا ہوں۔بات ختم ہو جائے گی لیکن اس کی طرف آتے نہیں تھے۔تو کیوں نہیں آرہے تھے یہ آخر کیا وجہ ہے؟ اسرائیل سے کیوں اتنا گہرا تعلق ہے؟ کیا رشتے داریاں ہیں؟ کیا اس کے مفادات کی غلامی کی ضرورت ہے؟ اور اس کے بدلے اتنی