خلیج کا بحران — Page 200
۲۰۰ یکم فروری ۱۹۹۱ء میں فرانس سے اجازت نہ ملے۔ادھر ان سے یہ گفت وشنید ہورہی تھی یعنی شریف مکہ سے اور ادھر وہابی حکومت کے سربراہ یعنی سعودی خاندان سے ساز باز چل رہی تھی کہ اگر تم ہم سے یہ معاہدہ کرو کہ اس علاقے پر ہمیشہ کے لئے انگریزی تسلط کو قبول کر لو گے اور انگریز کی مرضی کے بغیر کوئی فارن پالیسی طے نہیں ہوگی اور ترکی کی حکومت کو تباہ کرنے میں ہمارا ساتھ دو گے اور بہت سی شرطیں تھیں تو ہم تمہاری مدد کریں گے کہ تم ارض حجاز پر قابض ہو جاؤ اور تمہاری حکومت کی ہمیشہ حفاظت کا تم سے اقرار کریں گے اور تمہیں تحفظ دیں گے کہ کبھی کوئی تمہیں میلی آنکھ سے نہ دیکھ سکے۔اور یہ معاہدہ ان کے ساتھ طے پا گیا اور چند سالوں کے بعد باقاعدہ اسی طرح حملہ ہوا اور پھر انہوں نے شریف مکہ کو الگ کر دیا تو 1915ء،16، 17 کے زمانے میں ایک طرف شریف مکہ سے یہ باتیں ہورہی تھیں دوسری طرف شریف مکہ کے مخالفین سے وہ باتیں ہو رہی تھیں اور تیسری طرف روس اور انگلستان اور فرانس ، ان تینوں کا 1916ء میں عثمانی حکومت کا آپس میں بانٹنے پر ایک معاہدہ ہوا اور اس میں یہ باتیں طے ہوئیں کہ جب ہم عثمانی حکومت کو ٹکڑے ٹکڑے کریں گے تو کون سا حصہ روس اپنے قبضے میں کرے گا کون سا فرانس اپنے قبضے میں کرے گا کون سا انگریز اپنے قبضے میں کریں گے اور اس کے علاوہ ایک Englo French Agreement ہوا جس میں عرب کی بندر باٹ کے متعلق انگریزوں اور فرانسیسوں کا آپس کا معاہدہ تھا۔پس اس علاقے پر تین بڑی طاقتوں کا تسلط بطور منصوبے کے اس زمانے میں طے ہو چکا تھا اور جہاں عرب کا تعلق ہے۔یہاں روسی عمل دخل کی کوئی گنجائش نہیں رکھی گئی تھی۔عرب علاقوں پر فرانس اور انگلستان کی اجارہ داری تسلیم کی جا چکی تھی۔پس بعد میں جو جنگیں ہوئیں اور بعد میں ان دونوں قوموں نے جو کردار یہاں ادا کیا ہے وہ اس پس منظر میں سمجھنا بڑا آسان ہو جاتا ہے۔پس اس پہلو سے جب ہم موجودہ صورتحال کا تجزیہ کرتے ہیں تو مقاصد کو سمجھنانسبتا زیادہ آسان ہو جاتا ہے۔دو حل طلب معمے لیکن اس بات کو آگے بڑھانے سے پہلے ایک ایسی Mystery کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جو