خلیج کا بحران — Page 195
۱۹۵ یکم فروری ۱۹۹۱ء کریں گے اور اس کے لئے لائحہ عمل کیا ہو گا کن اصولوں پر ہم کام کریں گے۔کیا ہمارے مقاصد ہوں گے۔کیا کیا طریق اختیار کئے جائیں گے وغیرہ وغیرہ یہ ایک چھوٹا سا رسالہ ہے جو مجھے اب تاریخ تو یاد نہیں لیکن یہ یقینی طور پر یاد ہے کہ انیسویں صدی کے آخر پر 1897ء کے لگ بھگ پہلی مرتبہ یہ Document ایک روسی عورت کے ہاتھ لگا جو دراصل ان Elders of zion ، جن کی یہ سکیم تھی ان کے سیکرٹری کے طور پر کام کر رہی تھی۔جرمنی میں یہ واقعہ ہوا ہے اور ان میں سے ایک کی دوست بھی تھی چنانچہ ایک دفعہ وہ رات کو اپنے دوست کے گھر اس کا انتظار کر رہی تھی اور اس کو دیر ہوگئی اس نے اس کی میز پر پڑی ہوئی کتابوں میں سے ایک مسوہ دیکھنے کے لئے ، دل بہلانے کے لئے چن لیا اور یہی وہ مسودہ ہے جس کا نام ہے Protocol of Eleders of Zion اس مسودے کو پڑھ کر وہ ایسی دہشت زدہ ہوئی اور اس میں دنیا کوفتح کرنے کا ایسا خوفناک منصوبہ تھا کہ وہ اس کو لے کر بھاگ گئی اور روس چلی گئی اور پہلی مرتبہ اس کتاب کو روس میں شائع کیا گیا پھر 1905ء میں پہلی مرتبہ اس کا انگریزی ترجمہ شائع ہوا۔تو بہر حال یہ وہی دور ہے کہ جب ایک طرف انہوں نے ایک مخفی منصوبہ تیار کیا اور دوسری طرف ایک ظاہری منصوبے کا اعلان کیا اور یہ جو ظاہری منصوبہ ہے اس کے متعلق کوئی Controversy نہیں ہے کوئی اختلاف نہیں ہے۔یہود کہتے ہیں کہ ہاں ہمارا منصوبہ تھا اور ہم نے دنیا میں اس کو ظاہر کیا ہے۔وہ صرف اتنا تھا کہ حکومتوں کے تعلقات کے لحاظ سے، دوسرے اثرات کو بڑھانے کے لحاظ سے ہم ایک منظم جدوجہد کریں گے جس کا مقصد یہ ہوگا کہ اسرائیل کو اپنا ایک الگ گھر بطور ریاست کے مل جائے۔تو جو دوسرا منصوبہ تھا اس کا مقصد تھا کہ اسرائیل United Nations کے ذریعے اور اس زمانے میں اگر چہ United Nations کا کوئی تصور بھی موجود نہیں تھا لیگ آف نیشنز بھی نہیں تھیں ، اس کے باوجود اس منصوبے میں یہ سب کچھ ذکر موجود ہے اور اس سکیم کے ذکر کے بعد وہ منصوبہ آخر یہ ارادہ ظاہر کرتا ہے کہ جب یہ ساری باتیں ہو جائیں گی۔ہم United Nations قائم کرنے میں کامیاب ہو چکے ہوں گے تو پھر ہم United Nations پر قبضہ کریں گے اور United Nations پر قبضے کے ذریعے پھر ساری دنیا پر حکومت