خلیج کا بحران — Page 156
ܪܬܙ ۱۸/جنوری ۱۹۹۱ء میں تو حیران رہ گیا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کو اتنی دولتوں کا مالک بنایا گیا ہے اور یہ ان کا وقار ہے اور یہ ان کی عقل اور سمجھ بوجھ ہے۔کسی کو یہ خیال نہیں آیا کہ استغفار کریں، کسی کو یہ خیال نہیں آیا کہ تو بہ کریں۔خدا تعالیٰ کے دربار میں حاضر ہوں خدا تعالیٰ کی چوکھٹ پر سجدے کریں اور اس سے دعا مانگیں کہ اے خدا ہم کس مصیبت میں پھنس گئے ہیں، مجبور ہو گئے ہیں کہ اپنے بھائیوں کو نیست و نابود کر دیں اور اس کے نتیجے میں صدقات کریں۔بنی نوع انسان کی ہمدردی کا اظہار کریں،اس دولت کا صحیح استعمال کریں جس دولت کا ان کو امین بنایا گیا ہے۔یہ کرنے کی بجائے یہ صرف اس انتظار میں بیٹھے ہیں کہ کب کلیۂ عراق کی طاقت ہمیشہ ہمیش کے لئے صفحہ ہستی سے مٹادی جائے اور پھر فاخرانہ انداز میں یہ واپس اپنے چھوٹے سے ملک کویت میں داخل ہوں۔اور پھر مغربی طاقتیں دوبارہ آکر ان کے ملک کو از سرنو تعمیر کریں ، پھر آباد کریں جب کہ عملاً عراق صفحہ ہستی سے مٹ چکا ہو۔اب سوال یہ ہے کہ اس ساری جد و جہد کا ، اس خوفناک بین الاقوامی صورت حال کا فائدہ کس کو پہنچ رہا ہے۔آج صبح کے انٹرویو میں کسی نے اسرائیل کے نائب وزیر دفاع سے پوچھا کہ دیکھیں اگر آپ نے کوئی رد عمل دکھایا یعنی ان سکڈ میزائل کے نتیجہ میں جو آپ کے بعض شہروں میں گرے لیکن زیادہ نقصان نہیں ہوا اگر آپ نے کوئی رد عمل دکھایا تو اس کے نتیجے میں عالم اسلام کا جو ہمارے ساتھ اتحاد ہے اس کو شدید نقصان پہنچے گا تو اس نے کہا: تم کیا با تیں کرتے ہو کیسی بے عقلی کا سوال ہے۔مجھے تو اس سوال میں معمولی عقل کی بات بھی دکھائی نہیں دیتی۔اس نے کہا کیا تمہارا خیال ہے کہ یہ سعودی عرب کا احسان ہے کہ امریکہ کے ساتھ ہے اور انگلستان کے ساتھ ہے اور یورپین ممالک کے ساتھ ہے۔کیا تمہارا خیال ہے کہ یہ کو بیت کا احسان ہے یا مصر کا احسان ہے۔یہ تو سارے تمہارے ممنون احسان ہیں۔ان کو ایک ذرہ بھر بھی پرواہ نہیں ہوگی کہ اسرئیل عراق کو تباہ کرے یا کوئی اور تباہ کرے یہ ممالک ہیں جو تمہارے غلام ہیں، تمہارے ممنون احسان ہیں، تم پر کامل انحصار رکھنے والے ممالک ہیں ان کو توفیق ہی نہیں ہے کہ تم سے ناراض ہوسکیں۔یہ جو جواب