خلیج کا بحران — Page 119
۱۱۹ ۲۳ رنومبر ۱۹۹۰ء سکتے اور پھر حَبلُ اللہ کو جس نے مضبوطی سے تھاما ہوا ہو وہ تو اتنی دور آگ کے کناروں سے نکل جاتا ہے کہ کوئی دنیا کی طاقت اس کو آگ میں نہیں دھکیل سکتی۔اس مضمون کو سمجھنے کے بعد آپ اس زمانے میں آج بدنصیبی سے مسلمانوں کی جو حالت ہے اس کی طرف واپس آئیں۔ایران اور عراق میں جو جنگ ہوئی ہے ۸ سال تک مسلمان ایک دوسرے کا خون بہاتے رہے۔کیا اس آیت کریمہ کی روشنی میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ لوگ آگ کے کنارے پر نہیں کھڑے تھے ؟ کیا اس آیت کریمہ کی روشنی میں کوئی انسان یہ کہہ سکتا ہے کہ انہوں نے مضبوطی سے خدا تعالیٰ کی رسی کو تھاما ہوا تھا ؟ اور جَمِیعًا وہ سب اجتماعی طور پر اس رسی سے چمٹے ہوئے تھے۔پس یہ آیت محض ایک نظریاتی فلسفہ پیش نہیں کر رہی بلکہ دنیا کی گہری حقیقتوں سے ہمیں آشنا کر رہی ہے یہ ایسی ٹھوس حقیقتیں ہیں جن سے انسان نظر بچا کر نکل نہیں سکتا ایسی حقیقتیں ہیں جو قوموں کو گھیر لیتی ہیں اور خواہ آپ ان کو نظر انداز کریں ان کے نتائج سے آپ بچ نہیں سکتے۔قرآنی حکم کی خلاف ورزی کا انجام پس قرآن کریم کا یہ ارشاد کہ تقویٰ اختیار کرو اور تقویٰ کا حق اختیار کرو یعنی تقوی اختیار کرو اور تقویٰ کا حق ادا کرو اور ہر گز نہ مروجب تک مسلمان نہ ہو، مسلمانوں پر لازم کرتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں اکٹھے ہو کر ایک جان ہو کر خدا کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں اور اس سے اس طرح چھٹے رہیں کہ ایک لمحہ کے لئے بھی ان کا ہاتھ خدا کی رسی سے جدا نہ ہو اور ایک دوسرے سے بھی جدا نہ ہو یعنی ایک طرف خدا کی رسی کو تھاما ہوا ہو اور دوسری طرف وہ سب اکٹھے ہوں اور مل کر ایک ہی رسی کو پکڑا ہو۔یہ امت مسلمہ کی وحدانیت کا وہ منظر ہے جو قرآن کریم کی ان آیات نے تفصیل سے کھول کر ہمارے سامنے پیش کیا ہے۔بدقسمتی یہ ہے کہ مسلمان جو قرآن کریم کو پڑھتے بھی ہیں تو مضامین پر گہر اغور نہیں کرتے۔اکثر تو ایسے ہیں جو نہ تو پڑھنے کے اہل رہے نہ غور کرنے کے مگر ان کے راہنما قرآن کریم کی آیات پڑھ کر ان کو اکٹھا کرنے کی بجائے ان کو ایک دوسرے سے دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں یعنی ظلم کی حد ہے کہ قرآن کریم تو اللہ کی رسی کی یہ تعریف فرما رہا